ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب پولیس کے تفتیشی نظام پر سخت برہمی کا اظہار

 لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب پولیس کے تفتیشی نظام پر سخت برہمی کا اظہار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پولیس کے تفتیشی نظام میں سنگین خامیوں، غیر ضروری تاخیر اور انتظامی غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو صوبہ بھر میں فوری اصلاحات کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پولیس کی سستی، غفلت اور ناقص تفتیش کا بوجھ کسی ملزم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

جسٹس محمد طارق ندیم نے ملزم تنویر احمد کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے، عدالت نے قرار دیا کہ غیر ممنوعہ دفعات کے مقدمات میں بنیادی اصول "ضمانت، جیل نہیں" ہے اور بلاجواز قید کسی صورت سزا کا متبادل نہیں بن سکتی۔عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ فیصلے کی کاپی صوبے بھر کے تمام آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز اور ہیڈز آف انویسٹی گیشن کو بھجوائی جائے تاکہ تفتیشی نظام میں موجود خامیوں کا فوری جائزہ لے کر انہیں دور کیا جا سکے۔ عدالت نے تمام اضلاع میں زیر التوا مقدمات کا آڈٹ کرانے، تفتیشی تاخیر ختم کرنے اور مؤثر اصلاحی اقدامات کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ چھ سال تین ماہ تک پولیس فائل پر کوئی مؤثر کارروائی نہ ہونا ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے نہ صرف ملزم کو اشتہاری قرار دلوانے کے لیے قانونی کارروائی نہیں کی بلکہ تفتیشی ڈائریاں بھی قانون کے مطابق بروقت مرتب نہیں کیں، جو قانونی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ انصاف میں غیر ضروری تاخیر شفاف اور منصفانہ تفتیش کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے اور اس سے ملزم اور مدعی دونوں کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ تفتیشی افسران قانون کے مطابق روزانہ کیس ڈائریاں مرتب کرنے کے پابند ہیں جبکہ ایک ہی وقوعہ کی کراس ورژن کی مشترکہ، غیر جانبدار اور مکمل تفتیش لازمی ہے۔ عدالت کے مطابق یکطرفہ تفتیش سپریم کورٹ کے فیصلوں اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ آزادی ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے اور کسی شخص کو بلاجواز طویل عرصہ قید میں رکھنا آئین اور قانون کے منافی ہے۔ عدالت نے آبزرویشن دی کہ پولیس کی غفلت اور انتظامی ناکامی کا خمیازہ کسی ملزم کو نہیں بھگتنا چاہیے۔عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں تفتیشی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں اور اس حوالے سے تیس روز کے اندر جامع عمل درآمد رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی جائے۔

یہ مقدمہ ضلع قصور کے تھانہ کنگن پور میں درج لڑائی جھگڑے کے مقدمے سے متعلق تھا، جس میں ملزم تنویر احمد کی بعد از گرفتاری ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی گئی۔ دوران سماعت ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان بھی عدالت میں پیش ہوئے تھے تاہم وہ عدالت کو مطمئن نہ کر سکے تھے، جس کے بعد عدالت نے نہ صرف ضمانت منظور کی بلکہ پنجاب بھر کے تفتیشی نظام سے متعلق اہم ہدایات بھی جاری کر دیں

Ansa Awais

Content Writer