ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سموگ تدارک کیس،لاہور ہائیکورٹ کا شہر میں درختوں کی کٹائی پر سخت برہمی کا اظہار

سموگ تدارک کیس،لاہور ہائیکورٹ کا شہر میں درختوں کی کٹائی پر سخت برہمی کا اظہار
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے شہر میں درختوں کی کٹائی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ہسپتال کے قریب درخت کاٹنے والے پی ایچ اے کے ذمہ دار افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ پی ایچ اے افسران کو پیر کے روز طلب کر لیا ہے۔

جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت  اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر ہسپتال کے سامنے نہر اور سڑک کے درمیان موجود درختوں کی کٹائی کی گئی ہے۔ 
جسٹس شاہد کریم نے ممبر ماحولیاتی کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے موقع کا وزٹ کیا ہے؟ جس پر ممبر ماحولیاتی کمیشن سید کمال حیدر نے بتایا کہ انہوں نے وزٹ کیا ہے اور درختوں کی شاخیں کاٹی گئی ہیں۔ عدالت کے سوال پر ممبر ماحولیاتی کمیشن نے بتایا کہ درختوں کی کٹائی پی ایچ اے کی جانب سے کی گئی ہے۔اس موقع پر وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کمرۂ عدالت میں موبائل فون پر درختوں کی کٹائی کی ویڈیو بھی چلا دی۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد جسٹس شاہد کریم نے ممبر ماحولیاتی کمیشن کو فوری انویسٹیگیشن کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یاد رکھیں جو بھی ذمہ دار ہوا، اس کے خلاف مقدمہ درج کروایا جائے گا۔ سیکرٹری ماحولیاتی کمیشن فرحان سعید نے عدالتی کاروائی بارے سٹی فورٹی ٹو سے گفتگو بھی کی ،جسٹس شاہد کریم نےریمارکس دیے کہ ایس ایچ او کو عدالت میں بلا کر مقدمہ درج کروایا جائے گا اور ذمہ دار افسر کو گرفتار بھی کروایا جائے گا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ یہ بات ڈی جی پی ایچ اے کو بھی بتا دی جائے۔ پی ایچ اے کو درختوں کی کٹائی روکنی چاہیے تھی لیکن افسوس کہ انہوں نے خود ہی یہ کام شروع کروا دیا۔دورانِ سماعت وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ ڈونگی گراؤنڈ کو عرصہ دراز بعد بحال کروایا گیا تھا مگر اب وہاں دوبارہ ریسٹورنٹ بنا دیا گیا ہے، جبکہ کینال روڈ پر فلوٹنگ ریسٹورنٹ کی تعمیر بھی جاری ہے جسے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ریسٹورنٹس بنانے کی بجائے لائبریریاں بنائی جائیں، کیا حکومت کے پاس ریسٹورنٹس کے سوا کوئی اور کام نہیں رہ گیا؟ انہوں نے کہا کہ اس شہر میں ہر جگہ پیسے بنانے کے لیے ریسٹورنٹس بنائے جا رہے ہیں اور سرکاری وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے۔ عدالت نے شہر بھر میں غیر ضروری لائٹس لگانے اور گلی محلوں میں سروسز اسٹیشنز بننے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔جسٹس شاہد کریم نے غیر قانونی سروسز اسٹیشنز پر بھاری جرمانے عائد کرنے، محکمہ ماحولیات میں ویسٹ واٹر کے لیے الگ یونٹ قائم کرنے اور ڈیجیٹل کے ساتھ ساتھ فزیکل مانیٹرنگ کو بھی ضروری قرار دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ناصر باغ میں کسی قسم کی غیر قانونی تعمیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس بارے ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز نے سٹی فورٹی ٹو سے گفتگو بھی کی پنجاب حکومت کے لاء افسر ، ایل ڈی اے ، ہے ایچ اے ، ٹریفک سمیت دیگر محکموں کے نمائندے بھی پیش ہوئے ، نے کیس کی مزید سماعت 12 جنوری تک ملتوی کر دی۔

Ansa Awais

Content Writer