ریڈ زون علاقوں میں جلسے،جلوس کرنیوالے ہوشیار

ریڈ زون علاقوں میں جلسے،جلوس کرنیوالے ہوشیار
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)پنجاب حکومت نے مال روڈ کو ریڈ زون قرار دینے کے معاملے اور جلسے، جلوس پر پابندی کے لئے بل لاہور ہائیکورٹ میں پیش کر دیا،پنجاب حکومت نے یقین دہانی کروائی کہ ایک ماہ میں یہ بل باقاعدہ قانون بن جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کی، درخواست میں مال روڈ کو ریڈ زون قرار دینےکے لئے قانون سازی نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی، سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے وکیل نے ہائی سکیورٹی رسک نامی بل عدالت میں پیش کیا اور بتایا کہ بل پر عوامی شنوائی کے بعد اسے ایک ماہ میں پنجاب اسمبلی سے قانون کا درجہ مل جائے گا۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ بل کے تحت پنجاب میں کسی بھی علاقے کو ریڈ زون قرار دیا جاسکے گا اور اجتماعات، جلسے اور جلوس کے لئے مقامات مخصوص کیے جائیں گے، وکیل نے بھی نشاندہی کی کہ اجتماعات، جلسے اور جلوس کے لئےمتعلقہ ڈپٹی کمشنر سے اجازت کہ ضرورت ہوگی اور ریڈ زون میں اجتماعات کرنے پر قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے، سرکاری وکیل کے مطابق بل میں ریڈ زون کی خلاف ورزی کرنے پر دو سے پانچ برس تک قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہوسکے گا، عدالت نے بل کا مسودہ پیش ہونے اور اس پر قانون بنانے کی یقین دہانی پر درخواست نمٹا دی۔

رواں برس اکتوبر میں بھی  شہر میں احتجاج کرنے والوں اور روڈ بلاک کرنے پر اب بھاری جرمانہ اور سزا کی دینے کی تجویز پیش کی گئی،قانون سازی کے لئے مسودہ پنجاب اسمبلی بھجوایا گیا تھا،ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان کی جانب سے مسودے کی تیاری کا آغاز کیاگیا، مال روڈ پر احتجاج کرنے والے کم نہ ہوئے اس حوالے سے اینٹی رائٹ ایکٹ لانے کا فیصلہ کیا گیا، ایکٹ منظوری کے بعد جلد ہی پنجاب اسمبلی میں پیش کرنے پر اتفاق ہواتھا۔

ہائیکورٹ میں ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان نےکہا کہ پنجاب اینٹی رائٹس ایکٹ 2020ء کا ڈرافٹ تیار ہو رہا ہے، مال روڈ پر ہر قسم کےاحتجاج پر پابندی عائد کی گئی ہے۔