سٹی42: نو مئی 2023 کو ریاستی اداروں پر حملوں اور تشدد کے مقدمات میں سے دو اہم ترین مقدموں کا ٹرائل مکمل ہو گیا۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور عدالت مین موجود ملزموں کو باہر جانے سے روک دیا۔
لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانا شادمان اور جناح ہاؤس کے قریب پولیس گاڑیاں جلانے کے مقدمات کا ٹرائل مکمل کرلیا۔
لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں آج ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات تک دونوں مقدمات کی سماعت کی،انسداد دہشت گردی عدالت نے کچھ دیر پہلے اعلان کیا کہ سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے دونوں مقدمات پر فیصلہ محفوظ کر لیا، عدالت میں موجود ملزمان کو باہر جانے سے روک دیا گیا۔
ابتدا مین یہ بتایا گیا کہ مقدمات کا فیصلہ کب سنایا جائے گا کچھ دیر میں آگاہ کیا جائے گا۔ بعد میں عدالت نے وکلا اور میڈیا کو بتایا کہ ان دو مقدمات کا فیصلہ پیر 11 اگست کو سنایا جائے گا۔
ہفتہ کی شب عدالت نے پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمے پر ملزموں کے صفائی بیانات کے بعد حتمی دلائل بھی مکمل کر لیے۔
جناح ہاؤس کے قریب گاڑیاں جلانے کے کیس میں 65 سرکاری گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل ہوگئی ہے، مقدمے میں 65 گواہان نے شہادت ریکارڈ کروائی ، 17 ملزمان کا ٹرائل کیا گیا، 7 اشتہاری قرار دیے گئے، ایک ملزم وفات پاچکا ہے۔
جناح ہاؤس کے قریب پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگانے کے مقدمہ کے ملزمان میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفرازچیمہ اور دیگر شامل ہیں۔
9 مئی کی شام کو لاہور کے تھانہ شادمان کو جلانے کے کیس میں پولیس نے مقدمہ میں 41 ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا تھا۔
اس مقدمے میں 25 ملزمان کا ٹرائل کیا گیا، 15 ملزموں کو پولیس گرفتار نہیں کر سکی، ان پندرہ کو اشتہاری ملزم قرار دیا گیا اور ان کی تلاش جاری ہے۔ ملزموں میں سے ایک وفات پاچکا ہے۔
تھانہ شادمان کو نذر آتش کرنے کے اس مقدمہ میں مجموعی طور پر 45 گواہوں نے شہادت ریکارڈ کروائی۔
شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ اس مقدمہ مین بھی ملزمان میں شامل ہیں، اعجاز چوہدری، عالیہ حمزہ اور صنم جاوید بھی ملزموں میں شامل ہیں۔