ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کا آبنائے ہرمز پر کرپٹو کرنسی میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ

ایران کا آبنائے ہرمز پر کرپٹو کرنسی میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :ایران اور امریکہ میں جاری نازک جنگ بندی کے دوران تہران نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کرنے کے لیے ایک انوکھا منصوبہ تیار کیا ہے جس سے عالمی منڈی میں کھلبلی مچ گئی ہے۔

 برطانوی رپورٹ کے مطابق ایران اب یہاں سے گزرنے والے تیل کے ہر بحری جہاز سے فی بیرل ایک ڈالر ٹول ٹیکس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

 اس نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ ادائیگیاں روایتی کرنسی کے بجائے ڈیجیٹل کرنسی یعنی کرپٹو میں کی جائیں۔

 اگرچہ اس وقت براہِ راست جنگ رکی ہوئی ہے، لیکن ایران اس گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے۔

 ایران کی آئل، گیس اور پیٹرو کیمیکل ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی کا کہنا ہے کہ تہران اب اس گزرگاہ سے گزرنے والے تمام جہازوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ انہیں ریگولیٹ بھی کرے گا۔

 حامد حسینی کے مطابق ہر جہاز کو گزرنے کی اجازت دینے سے پہلے اس کے سامان کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

 انہوں نے بتایا کہ ایران کو یہ دیکھنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کیا اندر آ رہا ہے اور کیا باہر جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جنگ بندی کے ان دو ہفتوں کو ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ جہازوں کو گزرنے دیا جائے گا لیکن اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ایران کو کوئی جلدی نہیں ہے۔

 مجوزہ نظام کے تحت ٹینکرز کو ای میل کے ذریعے اپنے سامان کی تفصیلات شیئر کرنی ہوں گی۔

  جس کے بعد حکام ٹیکس کا حساب لگائیں گے اور کمپنیوں کو بٹ کوائن جیسی ڈیجیٹل کرنسی میں ادائیگی کے لیے بہت تھوڑا وقت دیا جائے گا۔

 اس وقت تقریباً 400 بحری جہاز خلیج میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور ماہرین اس منظر نامے کو ایک بڑی پارکنگ لاٹ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

  دوسری جانب جہاز رانی کی بڑی کمپنی میرسک نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے لیکن فی الحال معمول کی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔