ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹیرف وار؛ ٹرمپ نے ہتھیار ڈال کی جنگ بندی کر لی

City42, President Trump, Trump Tariff, Tariff Paused,
کیپشن: ٹرمپ نے بھاری ٹیرف کیوں لگائے، یہ سوال ہنوز مدلل جواب کا طلبگار ہے، اب نیا سوال یہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ ٹرمپ نے آج سہ پہر اپنے نافذ کردہ ٹیرف روک کیوں دیئے۔ وہ بھی پورے 90 دن کے لئے۔ ٹرمپ کے پہلے اقدام کا کوئی جواز نہیں تھا اور اب اس نوے روز کے پاز کا بھی بظاہر اس کے سوا کوئی جواز نہین کہ ٹرمپ کو خود سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا کر رہے ہین اور ان کے اقدامات کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیرف ہتھوڑا آج 9 اپریل کو چلا لیکن پلٹ کر امریکہ کے ہی منہ پر پڑا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹیرف کا نفاذ 90 دن کے لئے  روک دیا ہے۔ تاہم اپنے "طاقت ور لیڈر" ہونے کا تاثر دینے کے لئے ٹرمپ نے چین پر  ٹیرف مزید بڑھا کر  125 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے اور چین پر نافذ ہو چکے ٹیرف مین کوئی تعطل کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔ 

آج بدھ کی سہ پہر ٹرمپ نے دنیا کے خلاف اپنی آج ہی صبح اولین گھڑیوں میں چھیڑی ہوئی جنگ میں جنگ بندی کر دی۔ ٹرمپ نے بھاری محصولات نافذ کرنے کے اپنے حکم میں 90 دن کے وقفے کا اعلان کیا - حالانکہ 10 فیصد لیویز باقی رہیں گے۔ 

ٹرمپ کی اس یکطرفہ جنگ کے آج نو اپریل کو نصف شب ہونے والے اچانک حملے کے جواب میں دنیا کے کسی بھی ملک نے امریکہ پر کوئی جوابی حملہ نہیں کیا سوائے اس کے کہ چین نے امریکی امپورٹس پر  84 فیصد ٹیرف نافذ کیا اور یورپی یونین نے امریکی پروڈکتس پر   15 اپریل سے ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چند ہی گھنٹوں میں بوکھلا دینے والا فیکٹر خود امریکہ کی معیشت ہے جو ان کے ٹیرفس سے منہ کے بل گرنے کی طرف جا رہی ہے۔

ٹرمپ کی آج صبح نصف شب دنیا کے خلاف چھیڑی جنگ مین امریکہ کو سب سے تلخ جواب دراصل وال سٹریٹ سے ملا جہاں امریکہ کے ٹریژری بانڈ بے توقیر ہو گئے، انویسٹرز نے ٹرمپائزڈ امریکہ پر اعتماد نہیں کیا، ٹریژری بانڈز پر سود کی آفر برھا کر ساڑھے چار فیصد تک کرنا پڑی گئی۔
نیو یارک کی ڈو جون اور دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس میں شئیرز کی قیمتیں گرنے سے انویسٹرز کو ایک ہی دن میں کھربوں ڈالر کا نقصان ہو گیا۔ اس نقصان کے دباؤ نے آج بدھ کی سہ پہر ( واشنگٹن ٹائم) تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ڈھٹائی کے ساتھ اپنے بے سر و پا ٹیرف کے نفاذ میں 90 دن کا وقفہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ  ایک بریکنگ نیوز رپورٹ ہے جس کی مزید تفصیلات آ رہی ہیں۔ ان تفاصیل کو اسی صفحہ پر دیکھنے کے لئے کچھ دیر بعد صفحہ کو ری فریش کیجئے۔ 


ٹاپ لائن کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ انہوں نے عالمی تجارتی شراکت داروں کے خلاف اعلان کردہ وسیع ٹیرف پر 90 دن کے توقف کی اجازت دی ہے، جس سے اسٹاک مارکیٹ کئی دنوں تک گرنے کے بعد بڑھ رہی ہے۔

کلیدی حقائق
ٹرمپ نے اپنی جنگ میں پسپا ہونے کا اعلان اپنی  ایک پوسٹ میں کیا۔ ٹرمپ نے لکھا، میں نے ٹیرف پر 90 دن کے وقفے کی اجازت دی ہے اور "اس مدت کے دوران، 10 فیصد، جو کہ فوری طور پر مؤثر ہے، کافی حد تک کم باہمی ٹیرف جاری رہے گا"۔