سٹی42:صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکہ کو "پھر سے دولت مند" بنانے کے نعرے کو لے کر دنیا کی پشت پر ٹیرف کے کوڑے برسانے کی پالیسی نے نیویارک کی کروڈ آئل مارکیٹ میں ایسا بھونچال برپا کیا کہ جب تک رپورٹر تیل کی قیمت گرنے کی کوئی خبر بنا کر پوسٹ کرتے ہیں تب تک تیل کی قیمت مزید گر چکی ہوتی ہے۔ 9 اپریل 2025 تک، ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کا فیوچر تقریباً 58.47 ڈالر فی بیرل قیمت پر ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ برینٹ کروڈ آئل فیوچر تقریباً 59.98 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
ٹرمپ ٹیرف کے جھٹکوں اور امریکہ کی حکومت کی مجموعی پالیسیوں نے دنیا میں کساد بازاری، معاشی سرگرمی کے کم ہونے اور مینیوفیکچرنگ سرگرمی سکڑنے کے خدشات اتنے بڑھائے کہ آج بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 سال سے بھی زیادہ عرصے کی سب سے کم سطح پر پہنچ گئیں۔
اس سے پہلے کروڈ آئل سے یہ بریکنگ خبر تھی کہ نیویارک کی کروڈ آئل مارکیٹ میں برینٹ فیوچر کی قیمت میں مزید 2.38 ڈالر یا 3.79 فیصد کی کمی ہوئی اور آج برینٹ فیوچر 60.12 ڈالر فی بیرل پر ہوئے۔
یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 2.46 ڈالر یعنی 4.13 فیصد کی کمی سے 57.12 ڈالر رہ گئی تھی۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں مسلسل کمی 31 مارچ سے ہو رہی ہے۔ یکم اور دو اپریل کو قیمت سنبھلی تھی لیکن اس کے بعد سے 8 اپریل تک دوبارہ گرتی رہی، آج 9 مارچ کو زلزلہ آیا تو اب تک قیمتیں سنبھلنے میں نہیں آ رہیں۔
آج برینٹ کروڈ آئل کی قیمت مزید کم ہوئی اور 60.12 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ اب تازہ خبر کے مطابق یہ قیمت مزید گر کر 59.98 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔
31 مارچ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 74.74 ڈالر تھی۔ آج تک یہ کمی 14.76 ڈالر فی بیر ہو گئی ہے۔ یہ کمی تقریباً 20 فیصد ہے۔
یکم اور 2 اپریل کو برینٹ خام تیل کی قیمت معمولی اضافے سے 74 اعشاریہ 95 ڈالر فی بیرل ہوئی تھی اس کے بعد ایک ہی دن میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 7 فیصد تک کم ہوگئیں۔
دو اپریل سے آج شام تک تیل کی قیمت مسلسل گر رہی ہے۔
کروڈ آئل کی مارکیٹ میں قیمتوں میں بہت غیر معمولی کمی کا پاکستانی کنزیومر کو کیا فائدہ
پاکستان کی مارکیٹ میں پٹرولیم پروڈکٹس ڈیزل، پٹرول، کیروسین وغیرہ کی قیمتیں کروڈ آئل کی قیمت 74 ڈالر فی بیرل کے وقت سے مقرر کی گئی تھیں، اب خام تیل کی قیمت میں بہت بڑی کمی کے نتیجہ میں پاکستان کی مارکیٹ میں پٹرول، ڈیزل کی قیمت فی لٹر دو سو روپے تک آ جانا لازم ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا تیل کی قیمت گرنے کا ریلیف تیل کی قیمت میں دینے سے انکار
وزیراعظم شہباز شریف نے دو دن پہلے ایک سرکاری اجلاس کے دوران انکشاف کیا کہ وہ تیل کی انٹرنیشنل مارکیٹ میں قیمتیں گر جانے کا فائدہ عوام کو پہنچائیں گے ضرور لیکن یہ فائدہ پٹرول ڈیزل کی قیمت میں کمی سے نہیں بلکہ بجلی کی قیمت میں کمی سے پہنچائیں گے۔ بالکل ایسے ہی جیسے انہوں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کیا۔ پٹرول ڈیزل کی قیمت کم کرنا واجب ہو چکا تھا لیکن وفاقی حکومت نے یہ قیمتیں کم نہیں کیں بلکہ لیوی بڑھا دیا۔
پٹرول ڈیزل کی قیمتیں کم کرنا پڑیں گی
اب وزیراعظم اور ان کی حکومت کیا کرے گی، یہ قیاس آرائی سر دست مشکل ہے تاہم یہ یقینی ہے کہ وزیراعظم کی خواش خواہ کچھ ہی ہو، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں انہیں کم کرنا پڑیں گی۔ کیونکہ انترنیشنل مارکیٹ مین کروڈ آئل کی قیمت گرنے کا سلسلہ تھمنے والا نہیں، یہ قیمت مزید گرے گی اور اسی تناسب سے دنیا بھر میں پٹرول، ڈیزل کی کنزیومر پرائس بھی کم ہو گی۔
پاکستان میں فرنیس آئل سے بننے والی بجلی کروڈ آئل کی قیمت گرنے سے سستی ہونا لازمی نتیجہ ہو گا لیکن پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں کم کرنا اس صورتحال کا پہلا لازمی نتیجہ ہے، جو کرنا ہی پڑے گا۔