ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرفس کا بھونچال؛امریکہ اور دنیا کی سٹاک مارکیٹس ڈاؤن، امریکی معیشت لرز گئی

آج امریکہ نے چین پر ٹیرف  104 فیصد کیا تو چین نے بھی امریکی پروڈکٹس پر ٹیرف بڑھا کر 84 فیصد کر ڈالا۔ امریکہ کے ٹریژری نوٹ پر سود کی شرح  2008 کے گلوبل مالیاتی بحران کے دنوں کی شرح سے بھی بڑھ گئی۔ امریکہ معیشت پر انوسٹرز کا اعتماد کم ہو گیا

City52, Trump Tariff, Reciprocal tariffs , China retaliates , Do John, Wall Street, The US Treasury Notes, Interest Rate , Stocks plunge
کیپشن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضد نے دنیا کی معیشت کو گہرے بحران میں دھکیلنے کی ابتدا کر دی ہے۔ آج نو اپریل کو امریکہ کے چین کی امپورٹس پر 104 فیصد جناتی ٹیرف کا نفاذ ہوا تو چین نے بھی جواب دیا اور امریکی پروڈکٹس پر ٹیرف 34 فیصد کو بڑھا کر 84 فیصد کر دیا۔ اس کے بعد آج دنیا کی سٹاک مارکیٹس اور کموڈٹی مارکیٹس کھلتے ہی بھونچال کی زد میں آ گئیں۔ اس وقت ہر مارکیٹ سے شئیرز کی قیمتیں گرنے کی خبریں آ رہی ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

وسیم عظمت: دنیا کو جس بھونچال کا خدشہ تھا وہ نہیں ٹلا، امریکہ کی سٹاک مارکیٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برپا کئے ہوئے بھونچال سے سہم کر نیچے گر گئی۔  عالمی منڈیوں کو جھنجھوڑی گئیں کیونکہ  آج 9 اپریل کو نئے امریکی ٹیرف لاگو ہوئے جو اب  104 فیصد ہیں۔ اور چین نے توقع کے مطابق جوابی کارروائی کی اور امریکی پروڈکٹس پر ٹیرف بڑھا کر  84 فیصد کر دیا ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا کے ساتھ وال سٹریٹ جرنل نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ایک اور تناؤ والے سیشن کے لیے وال سٹریٹ  اتھل پتھل ہو رہی ہے۔ آج معیشت میں برپا ہونے والے بھونچال کا سب سے برا اثر خود امریکہ کی معیشت پر پڑتا  دکھائی دے رہا ہے۔

اس بھونچال کی پیش گوئی پہلے کی گئی تھی۔ جس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں چینی امپورٹس پر ٹیرف مزید  50 فیصد بڑھانے کا اعلان کیا تھا ، سٹی42 نے تب بھی بتایا تھا کہ یہ اقدام معیشت میں نیا بھونچال لائے گا۔

امریکہ کی ریاست کو قرضہ پر سود  2009 کے مالیاتی بحران کے دنوں سے بھی زیادہ بڑھ گیا

آج وال سٹریٹ میں سنٹر سٹیج پر " ایس ٹریژریز نوٹ" ہیں جن  کو سیل آف کرنا تھا۔ 10 سالہ نوٹ پر  کھربوں ڈالر کے قرضوں اور سیکیورٹیز کا ریفرنس پوائنٹ  بدھ کے روز 4.47 فیصد تک بڑھ گیا، جو 2008 کے مالیاتی بحران کے عروج کے بعد سے چار دن کی مدت میں اس کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

انویسٹرز کہہ رہے ہیں کہ بدھ اور جمعرات کو ہونے والی سرکاری نیلامیوں سے پہلے طویل مدتی ٹریژری رکھنے کے بارے میں وسیع اضطراب پایا جاتا ہے۔

امریکی معیشت پر انویسٹرز کا اعتماد کم ہو گیا

ڈونالڈ ٹرمپ کے محصولات کے اثرات پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سرمایہ کاروں کا حکومتی قرضوں اور  امریکی معیشت پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔

بدھ کے روز، امریکی بانڈز پر  شرح سود - 4.5 فیصد  ہو گئی۔ فروری کے بعد سے بلند ترین سطح کو چھونے کے لیے تیزی سے بڑھ گئی۔

امریکہ کی حکومت قرض کی نقد رقم حاصل کرنے کے لئے مارکیٹ میں حکومت بانڈز فروخت کرتی ہے - بنیادی طور پر ایک IOU - مالیاتی منڈیوں سے پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے اور ان کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے، یعنی امریکہ کو عام طور پر خریداروں کو راغب کرنے کے لیےسود کی زیادہ شرحیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

لیکن آج یہ ہوا کہ امریکہ کو قرضہ حاصل کرنے کے لئے بہت بڑی شرح سود آفر کرنا پڑ رہی ہے۔

بھونچال بھونچال ہر طرف بھونچال

 اس اضطراب نے عالمی سٹاک سیل آف میں حصہ ڈالا ہے، سٹاک فیوچر 2 فیصد یا اس سے بھی زیادہ نیچ گر گئے ہیں۔ جاپانی ایکویٹی 3.9 فیصد گر گئی اور یورپ کا مرکزی بینچ مارک 4فیصد گر گیا۔

تقریباً 100 ممالک پر ٹرمپ کے باہمی محصولات آج نو اپریل کو آدھی رات نافذ ہوئے، جس میں چینی درآمدات پر 104 فیصد ٹیرف بھی شامل ہے۔ بدھ کے روز، بیجنگ نے کہا کہ وہ امریکی درآمدات پر محصولات کو 34 فیصد سے بڑھا کر 84 فیصد کر دے گا۔

جے پی مورگن کے چیف کی زبان پر بھی کساد بازاری کا لفظ آ گیا

جے پی مورگن کے چیف ایگزیکٹو جیمی ڈیمن نے کہا کہ ان کے خیال میں کساد بازاری ٹیرف کا ممکنہ نتیجہ ہے  فوکس بزنس ویڈنزڈے مورننگ شو میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کساد بازاری کی توقع کر رہے ہیں تو جیمی ڈیمن نے کہا، میں اپنے ساتھی اکانومسٹوں سے اختلاف رکھتا ہوں لیکن مہیں کہوں گا کہ ہاں امکان ہے۔۔

"تھوڑی سی غیر یقینی صورتحال ہے"۔۔۔ ارے تھوڑی سی؟؟

 لیکن ٹریژری سکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک بینکنگ کنونشن میں کہا کہ "تھوڑی سی غیر یقینی صورتحال ہے،" لیکن زیادہ تر کارپوریٹ ایگزیکٹوز "مجھے بتائیں کہ معیشت بہت ٹھوس ہے۔"

بیسنٹ نے دعویٰ کیا، "ہم کافی اچھی حالت میں ہیں۔

مزید ٹیرف لگاؤں گا، اب فارما کی باری؛ ٹرمپ کی ضد

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہاؤس ریپبلکنز کے ساتھ منگل کے عشائیہ میں اپنے محصولات کا دفاع کیا اور مزید محصولات لگانے کا اعلان بھی کر دیا۔ ٹرمپ نے  کہا کہ دواسازی کی امپورٹس پر محصولات کا اعلان "بہت جلد" کیا جائے گا۔ مرک اور فائزر جیسے فارما سٹاک قابل ذکر پری مارکیٹ میں کمی کرنے والوں میں شامل تھے۔

تازہ ترین ڈیویلپمنٹس:

ڈاؤ انڈسٹریز، S&P 500 اور Nasdaq-100 میں 2 فیصد یا اس سے زیادہ کمی کے ساتھ، سٹاک فیوچرز غیر مستحکم ٹریڈنگ میں گر گئے۔

ڈبلیو ایس جے ڈالر انڈیکس کمزور ہوا، جنوری کی بلند ترین سطح سے گراوٹ کو بڑھا رہا ہے۔

تمام امریکی اثاثوں کی قیمت میں گراوٹ

 ڈوئچے بینک نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کی تجارت "تمام امریکی اثاثوں کی قیمت میں گراوٹ" کی نمائندگی کرتی ہے۔ بینک آف انگلینڈ نے کہا کہ مزید تیز اصلاحات کا خطرہ زیادہ ہے۔

تیل کی مارکیٹ میں بھونچال

برینٹ کروڈ فیوچر، تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کا بینچ مارک، تقریباً چار سال کی کم ترین سطح پر گر گیا، جو مارکیٹوں میں شدید تناؤ کی علامت ہے اور یہ اس خوف کی علامت ہے کہ اقتصادی نقطہ نظر مدھم ہو رہا ہے۔

امریکہ کی اکنامک گروتھ کی فورکاسٹ میں ایک فیصد کمی

وین گارڈ نے 2025 امریکی جی ڈی پی نمو کے لیے اپنی پیشن گوئی کو 1 فیصد سے کم کر دیا، جو کہ اس کے پچھلے تخمینہ سے تقریباً ایک فیصد کم ہے۔ نئی پیشن گوئی فرض کرتی ہے کہ ٹرمپ اپنے کچھ محصولات واپس لے جائیں گے۔

جاپان کے اعلی کرنسی ڈپلومیٹ نے عالمی مالیاتی نظام میں استحکام کو یقینی بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹوکیو دیگر ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کرے گا کہ امریکی ٹیرف کو کیسے ہینڈل کیا جائے۔

Caption صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو پھر سے دولت مند بنانے  کے لئے جو اقدامات کر رہے ہیں وہ مالیاتی دہشتگردی جیسے ہیں۔ ان اقدامات سے امریکہ پھر سے امیر ہو گا یا نہیں یہ کسی کو نہیں معلوم لیکن آج 9 مارچ کو یہ ہوا کہ امریکہ پہلے سے کچھ زیادہ غریب ہو گیا۔ امریکہ کی حکومت کو  کھلی مارکیٹ سے قرضہ لینے کے لئے شرح سود کی آفر مزید برھانا پڑ گئی اور امریکہ کی اس سال اکنامک گروتھ کی فور کاسٹ میں ایک فیصد کمی ہو گئی۔