وسیم عظمت: آج صبح نو بجے دنیا کی معیشت ایک سنگین زلزلہ کا شکار ہونے جا رہی ہے جس کی ابتدا واشنگٹن میں کیلنڈر پر 9 اپریل کا ہونے سے ہو گی۔ امریکہ نے چین کی امریکہ آنے والی پروڈکٹس پر پہلے تو 34 فیصد ٹیرف لگایا، اب اس ٹیرف کو مزید 50 فیصد بڑھا کر 104 فیصد کر دیا ہے جس کا اطلاق آج پاکستان کے وقت کے مطابق صبح 9 بجے ہو گا، تب واشنگٹن میں 9 اپریل کا آغاز ہو رہا ہو گا۔
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے کل منگل کے روز بتایا کہ (واشنگٹن میں) 9 اپریل کا آغاز ہوتے ہی چین پر اضافی 30 فیصد محصولات کے ساتھ مجموعی طور پر 104 فیصد محصولات نافذ ہوجائیں گے۔
پاکستان میں سٹاک اکیسچینج کے ٹرمپ ٹیرف کے شاک سے متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ کوینکہ امریکہ اور دنیا کی باقی تمام سٹاک ایکسچینجز اس شاک سے متاثر ہوں گی۔
سٹی42 نے دنیا کی معیشت میں آج صبح نو بجے برپا ہونے والے زلزلے کی اطلاع 7 اپریل کو دے دی تھی اور بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ کے چین پر اضافی ٹیرف کے نفاذ سے نو اپریل کو زلزلہ آئے گا۔ ۔
پس منظر
امریکہ کے 20 جنوری کو حکومت سنبھالنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ امریکہ آج کل غریب ہے، اسے پھر سے دولت مند بنانے کے لئے وہ کئی اقدامات کر رہے ہیں جن میں سے ایک امریکہ کی جانب سے بہت سے غریب ملکوں کو دی جا رہی امداد میں کمی کرنا یا اسے مکمل بند کر دینا ہے، دوسرا امریکہ کی وفاقی حکومت کے ملازمین کی تعداد میں کمی کر کے اخراجات کنترول کرنا ہے اور تیسرا دنیا کے سو سے زیادہ ممالک سے امریکہ بھیجی جانے والی بیشتر پروڈکٹس پر ٹیرف( درآمدی ٹیکس) نافذ کر کے فاضل رقم حاصل کرنا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو وائٹ ہاؤس مین اقتدار سنبھالتے ہی پہلا کام یہ کیا تھا کہ بہت سے ملکوں پر ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا تھا جن میں امریکہ کے پڑوسی ممالک میکسیکو اور کینیڈا بھی شامل تھے اور چین سمیت سو کے لگ بھگ دوسرے ملک بھی۔ ٹرمپ ٹیرف نافذ ہونے پر تمام ملکوں نے اپنے اپنے تناظر مین جواب دیا، بہت سے ملک امریکہ کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہ رہے ہیں جن کی تعداد وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے 70 بتائی ہے، پاکستان بھی ان میں شامل ہے۔
اس دوران جب چین پر امریکہ کے اعلان کردہ 34 فیصد اضافی ٹیرف کا نفاذ ہوا تو چین کی حکومت نے بھی امریکہ کی چین آنے والی پروڈکٹس پر 34 فیصد ٹیرف لگا دیا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اچانک کوئی بات چیت کئے بغیر لگائے ہوئے 34 فیصد ٹیرف کے جواب میں امریکی پروڈکٹس پر اتنا ہی ٹیرف لگا دینے کے چینی اقدام کا جواب یہ دیا کہ آج 9 مارچ سے چین پر مزید 50 فیصد ٹیرف نافذ کر دینے کا اعلان کر دیا جس پر اب کچھ گھنٹے بعد عمل شروع ہو رہا ہے۔
امریکی پورٹس پر چین کی پروڈکٹس کا آج کیا حشر ہو گا
امریکہ میں فروخت کے لئے چین سے جو پروڈکٹس بھیجی جاتی ہیں، اگر ان کی امریکہ میں سٹور تک یا استعمال کنندہ تک پہنچنے تک لاگت میں بیٹھے بٹھائے سو فیصد اضافہ ہو جائے گا تو ان کے امپورٹرز کے لئے ان کو امپورٹ کر کے بیچنا عملاً ناممکن ہو جائے گا۔ چین کی امریکہ کے لئے اربوں ڈالر کی پروڈکٹس آج 9 اپریل کو جب امریکی پورٹس پر پہنچیں گی تو وہ 104 فیصد ٹرمپ ٹیرف لگنے کے بعد عملاً ناقابلِ فروخت ہو جائیں گی۔
امریکہ اور چین کی تجارت کا حجم
2024 میں، چین کے ساتھ امریکی اشیاء کی تجارت کی کل مالیت تقریباً 582.4 بلین ڈالر تھی، جس میں چین کو امریکی برآمدات 143.5 بلین ڈالر اور چین سے درآمدات 438.9 بلین ڈالر تھیں، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 295.4 بلین ڈالر تھا۔
اب امریکہ میں نافذ ہونے والے ٹیرفس کی زد میں آج ایک روز میں کتنی مالیت کی چینی پروڈکٹس آئیں گی، اس کا سر دست کوئی تخمینہ دستیاب نہیں ہے۔ کیونکہ ٹیرف کا عملی اطلاق ان ہی پروڈکٹس پر ہو گا جو آج امریکہ کی پورٹس پر امریکہ کے اندر جانے کے لئے پہنچائی جائیں گی۔
امریکہ کے امپورٹرز کا کیا حشر ہو گا
کوئی ایکسپورٹر خریدار کے ساتھ قیمت، لین دین کا طریقہ کار طے ہونے کے بعد معاہدہ کر کے سامان ایکسپورٹ کرتا ہے۔ جو سامان ٹرانزٹ مین ہوتا ہے اس سامان کو عملاً بک چکا تصور کیا جاتا ہے۔ اس سامان پر عائد ہونے والے ٹیرف بنیادی طور پر امپورٹر کو ادا کرنا ہوتے ہیں۔ ٹیرف کم ہو تو امپورٹر کی کاسٹ کم ہوتی ہے اور ٹیرف کسی وجہ سے بڑھ جائے تو راستے میں موجود سامان امپورٹر تک پہنچنے کی کاسٹ بڑھ جاتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے آنے والی پروڈکٹس پر جو 34 فیصد ٹیرف پہلے لگایا اور جو بیٹھے بٹھائے مزید 50 فیصد ٹیرف آج لگا رہے ہیں، یہ سب بوجھ امریکہ کے امپورٹرز پر ہی پڑے گا جن کا عملاً آج دیوالیہ نکل جائے گا۔
چین کیا کرے گا
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی پر چین کی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے کہا تھا کہ جو امریکہ کرے گا اس کا چین مقابلہ کرے گا اور جواب دے گا۔ تاہم ترجمان نے یہ اشارہ نہیں دیا تھا کہ کیا چین بھی امریکی پروڈکٹس پر مزید ٹیرف لگائے گا یا نہیں۔
چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اپنی ضد پر قائم رہا تو چین اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم طریقے سے جوابی اقدامات کرے گا اور آخر تک لڑے گا۔
امریکہ کی چین کے خلاف تجارتی جنگ کا پہلا وکٹم کون
امریکہ کی چین کے خلاف ٹریڈ وار میں چین پہلا وکٹم نہیں ہے۔ دلچسپ فیکٹ یہ ہے کہ اس جنگ کا پہلا وکٹم خود امریکہ ہی ہے۔ ٹیرف نافذ ہونے سے پہلے ہی امریکہ میں اور دنیا بھر میں جو اثرات ہوئے وہ یہ ہیں کہ بہت سی امریکی کمپنیوں کی سٹاک مارکیت میں ویلیو کم ہو گئی، یہ کھربوں ڈالر کا نقصان اس وقت تک ہو چکا ہے اور آج نو اپریل کو جونہی امریکہ میں دن کا آغاز ہو گا، سٹاک مارکیٹس اور دوسری مارکیٹس کھلیں گی تو سٹاک ایکسچینجوں مین شئیرز کی قیمتوں اور نیویارک کی ہول سیل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت سمیت ہر شے کی قیمت نیچے گر رہی ہو گی۔ وہ بہت سی پروڈکٹس جو چین سے امریکہ آتی ہیں، ان کی مارکیٹ میں قیمت آناً فاناً بڑھ جائے گی۔ ان پروڈکٹس کی متبادل پروڈکٹس کی قیمتین بھی بڑھ جائیں گی۔ بہت سی پروڈکٹس کی مارکیٹ میں قلت ہو جائے گی۔ انویسٹرز کے اربوں ڈالر دیکھتے ہی دیکھتے ہوا میں تحلیل ہو جائیں گے۔