ویب ڈیسک: امریکا کے محکمہ تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ بھارت امریکہ اور 24 دیگر ممالک کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کی کوششوں میں شامل ہوا ہے کہ اگلی نسل کے نیٹ ورک ہمارے مشترکہ سیکورٹی مفادات کی عکاسی کرتے ہیں، ہماری مسابقت کو مضبوط کرتے ہیں، اور جی6 ( 6G) میں جدت طرازی کو آگے بڑھاتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے امریکہ اور دیگر24ممالک کے ساتھ ملکر اگلی نسل کے 6جی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی ترقی اور تعیناتی کے لیے ایک عالمی اقدام میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ امریکی محکمہ تجارت نے پیر کو اس پیش رفت کا اعلان کیا۔ اس اقدام کا مقصد6جی ٹیکنالوجی کے مستقبل کو اس طرح تشکیل دینا ہے کہ اس میں مشترکہ سکیورٹی مفادات، عالمی مسابقت اور جدت کو فروغ حاصل ہو۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ پیش رفت امریکہ کے شمالی کیرولینا کے شہر چیپل ہِل میں یکم اور 2 ستمبر کو منعقدہ جی 20انوویشن منسٹر میٹنگ کے موقع پر سامنے آئی۔ بھارتی وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے تجارت و صنعت جتن پرساد نے کی۔ اجلاس کی میزبانی امریکی محکمہ تجارت اور وہائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی نے کی تھی۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک اور جتن پرساد کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے بعد بھارت کی 6؍جی کے عالمی اقدام میں شمولیت کو حتمی شکل دی گئی۔ امریکی محکمہ تجارت کے مطابق اس شراکت داری کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مستقبل کے ۶؍جی نیٹ ورکس مشترکہ سیکوریٹی مفادات کی عکاسی کریں، ممالک کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنائیں اور۶؍جی کے شعبے میں جدت کو فروغ دیں۔
Secretary Lutnick met with Indian Minister of State for Commerce Jitin Prasada on the sidelines
— U.S. Department of Commerce (@CommerceGov) September 7, 2026
of the G20 Innovation Ministerial to discuss the future of 6G.
Today, we are pleased to announce that India has joined the U.S. and 24 other countries in the effort to ensure that… pic.twitter.com/jcRQ5nNR7W
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ بھارتی وزیر جتن پرساد اور امریکی وزیر ہاورڈ لوٹنک کی ملاقات میں صرف6جی ہی نہیں بلکہ سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹرز جیسے اہم ٹیکنالوجی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔بھارتی وزیر مملکت نے امریکہ سے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن6میں مزید سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی بات کی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان اے آئی ٹیکنالوجی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور مصنوعی ذہانت کیلئےحفاظتی اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔جتن پرساد نے ملاقات کے بعد کہا سیمی کنڈکٹرز، اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز ابھرتی ہوئی ڈجیٹل معیشت کے بنیادی ستون ہیں اور بھارت اور امریکہ ان شعبوں میں عملی تعاون کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔
واضح رہےکہ 6جی کو مستقبل کی انتہائی تیز رفتار اور زیادہ مربوط موبائل کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔