ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سرکاری افسروں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ

سرکاری افسروں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک : آئی ایم ایف کی ایک اور بڑی شرط پوری کرنے کے لیے گریڈ17سے 22 کے افسروں  کے اثاثے ڈکلیئرکیے جائینگے

حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک  اور  بڑی شرط پوری کرنے کی تیاری پکڑ لی  جس کے تحت گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری افسران کے اثاثے ظاہر کرنےکے لیے قواعد  میں ترمیم کی  جائےگی۔ایف بی آر نے سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے قواعد میں ترمیم کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف شرائط کے تحت گریڈ 17 سے 22 کے افسران کے اثاثے ڈکلیئر کیے جائیں گے۔ایف بی آر کے مطابق  پبلک سرونٹ کی نئی تعریف گریڈ 17 اور اس سے بالا افسروں پر مشتمل ہوگی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں، خودمختار اداروں اور کارپوریشنز کے افسر بھی شامل ہیں۔

 ایف بی آر کے مطابق نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مستثنیٰ افراد اس تعریف میں شامل نہیں ہوں گے۔ایف بی آر نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مجوزہ مسودے پر 7 دن کے اندر آراء و تجاویز طلب کی ہیں۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہےکہ  ترمیمی قواعد  اب پبلک سرونٹس  پر لاگو ہوں گے، ترامیم کا مقصد  شفافیت  اور انتظامی وضاحت بڑھانا ہے، اثاثہ جات کے گوشواروں کے تبادلےکا نظام مزید مؤثر بنانےکی کوشش کی جا رہی ہے۔