سٹی42: پڑوسی ملک کی ریاست بہار میں ریاستی اسمبلی کے آدھے حلقوں کے الیکشن کے بعد اپوزیشن کے گرینڈ الائنس نے تمام حلقوں میں اپنی پوزیشن کا جائزہ لیا اور اپنی جیت کا اعلان کر دیا ہے۔ بہار اسمبلی کے 122 حلقوں میں الیکشن کل 6 نومبر کو ہوا، باقی حلقوں میں الیکشن 11 نومبر کو ہو گا۔
بہار کی نائب وزارت اعلیٰ کے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار مکیش سہنی نے آج جمعہ کی شام یقین کے ساتھ کہا کہ کل نوجوانوں اور خواتین نے مہاگٹھ بندھن کے حق میں ووٹ دیا، 14 نومبر کو بنے گی ہماری حکومت۔
مکیش سہنی نے دعویٰ کیا کہ پہلے مرحلے میں نوجوانوں اور خواتین کی توقع سے زیادہ تعداد نے مہاگٹھ بندھن کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 نومبر کو نئی حکومت بنے گی اور این ڈی اے کے دن اب گنے جا چکے ہیں۔
اس سے پہلے آج جمعہ کے روز ہی گرینڈ الائنس کے مرکزی رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ بہار اسمبلی کے الیکشن میں ووٹوں کا ٹرن آؤٹ بہت زیادہ رہا۔ بہت زیادہ ترن آؤٹ کے سبب ہمیں بہار میں تبدیلی آنے کا یقین ہو رہا ہے۔
کل 6 نومبر کو پولنگ کے بیشتر گھنٹے بیت جانے کے بعد میڈیا رپورٹوں میں بتایا جا رہا تھا کہ سہ پہر تین بجے تک 67 فیصد ٹرن آؤٹ دیکھا جا رہا ہے۔
آج پولنگ کے مکمل اعداد و شمار سامنے آ چکے ہیں اور ٹرن آؤٹ 65 فیصد سے زیادہ آیا ہے۔
پٹنہ میں بہار اسمبلی انتخاب کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد مہاگٹھ بندھن کی جانب سے نائب وزیراعلیٰ کے امیدوار مکیش سہنی نے جمعہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے نوجوان روزگار کے مسئلے پر این ڈی اے سے ناراض ہیں اور انہوں نے اس بار مہاگٹھ بندھن کے امیدواروں کو ووٹ دیا ہے۔ سہنی نے کہا، نوجوان یہ سمجھ چکے ہیں کہ ریاست میں بے روزگاری کی سب سے بڑی وجہ این ڈی اے کی حکومت ہے، اس لیے وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔
بطاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ کل بہار کے عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور یہی بات ووٹنگ کے رجحان سے ظاہر ہوتی ہے۔
مکیش سہنی نے اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی کہا کہ بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں عوام کا جوش اور شرکت غیر معمولی رہے۔ انہوں نے لکھا، ’’مہاگٹھ بندھن کے تمام ساتھیوں اور دیوتا سمان ووٹروں کا میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کے جذبے نے واضح کر دیا ہے کہ اس بار بہار میں تاریخی جیت مہاگٹھ بندھن کی ہوگی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’اب وقت آ گیا ہے کہ بہار کو نئی سمت دی جائے اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔ مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننے کے بعد ریاست میں ترقی اور روزگار دونوں پر نئی پالیسی کے ساتھ کام شروع کیا جائے گا، تاکہ نوجوانوں کو ان کے خواب پورے کرنے کا موقع ملے۔‘‘