ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نمبرداری سے آگے کی بات ،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور پاکستانی معاشرے کی بدلتی سمت

تحریر: ملک اشرف

نمبرداری سے آگے کی بات ،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور پاکستانی معاشرے کی بدلتی سمت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستانی معاشرے میں عورت کے کردار پر بحث نئی نہیں،ہر دور میں خواتین نے اپنے حقِ نمائندگی، مساوی مواقع اور سماجی قبولیت کے لیے جدوجہد کی ہے، کبھی یہ جدوجہد تعلیم کے حق کے لیے ہوئی، کبھی ملازمت کے مواقع کے لیے، کبھی سیاست میں حصہ لینے کے لیے اور کبھی صرف اس بنیادی حق کے لیے کہ انہیں ایک مکمل اور بااختیار شہری تسلیم کیا جائے۔  مگر اس تمام سفر کے باوجود آج بھی ملک کے کئی حصوں میں بعض انتظامی اور سماجی عہدے ایسے سمجھے جاتے ہیں جو گویا صرف مردوں کے لیے مخصوص ہوں۔ “نمبردار” کا عہدہ انہی روایتی تصورات کی ایک مثال ہے،اسی پس منظر میں لاہور ہائیکورٹ کا حالیہ فیصلہ نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جس میں عدالت نے مسمات کلثوم اختر کو مستقل نمبردار مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ خواتین کو عوامی اور انتظامی عہدوں میں برابر مواقع دینا آئینی تقاضا ہے۔

  جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں نہ صرف برادری کی بنیاد پر خاتون امیدوار کے نمبر کم کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ کسی خاتون کو صرف سماجی تعصب کی بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 یہ فیصلہ بظاہر ایک انتظامی تنازع کا حل معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ یہ فیصلہ دراصل پاکستانی معاشرے میں موجود ان روایتی تصورات کو چیلنج کرتا ہے جن کے مطابق دیہی انتظامی ڈھانچے اور اختیار کے عہدے صرف مردوں کا حق سمجھے جاتے ہیں۔

 نمبردار کا عہدہ دیہی نظام میں محض ایک رسمی حیثیت نہیں رکھتا۔ نمبردار ریاست اور گاؤں کے درمیان ایک رابطہ تصور کیا جاتا ہے۔ زمینوں کے معاملات، سرکاری امور، محصولات اور مقامی سطح کے انتظامی معاملات میں اس کردار کی تاریخی اہمیت رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں میں اس عہدے کو طاقت، اثر و رسوخ اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں کسی خاتون کا اس منصب تک پہنچنا صرف ایک تقرری نہیں بلکہ ایک سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔

 اس مقدمے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ درخواست گزار کلثوم اختر کو میرٹ کے باوجود صرف برادری اور صنفی بنیاد پر پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔ عدالت کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر نے ازسرنو جائزے میں انہیں میرٹ پر پہلے نمبر پر رکھا تھا، مگر بعد میں ڈپٹی کمشنر نے برادری کو بنیاد بنا کر ان کے نمبر کم کر دیے۔ یہ رویہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے انتظامی نظام میں بعض اوقات ذاتی تعصبات اور سماجی دباؤ قانون اور میرٹ پر حاوی ہو جاتے ہیں۔

 عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک نہایت اہم اصول واضح کیا کہ ’’نمبرداری کسی کا پیدائشی حق نہیں بلکہ ایک عوامی ذمہ داری ہے‘‘ یہ جملہ دراصل پورے جاگیردارانہ اور موروثی ذہنیت پر ایک قانونی ضرب ہے۔ پاکستان میں کئی انتظامی اور سیاسی عہدے عملاً خاندانی اجارہ داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ دیہی علاقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے خاندان نسل در نسل انہی عہدوں پر قابض رہتے ہیں اور اکثر میرٹ کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے نے واضح کر دیا کہ ریاستی اور عوامی عہدے کسی خاندان یا برادری کی جاگیر نہیں۔

 یہ فیصلہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ آئینِ پاکستان خواتین کو مساوی حقوق دیتا ہے، مگر عملی صورتحال اکثر مختلف نظر آتی ہے۔ دیہی علاقوں میں خواتین کو آج بھی وراثت، تعلیم، روزگار اور سماجی شرکت جیسے بنیادی حقوق کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی خاتون عوامی عہدے کے لیے سامنے آتی ہے تو اسے صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر ہمارے معاشرے میں عورت کی قیادت کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کیوں پائی جاتی ہے؟ اس کی بنیادی وجہ صدیوں پر محیط وہ سماجی سوچ ہے جس نے اختیار، فیصلہ سازی اور قیادت کو مرد سے منسلک کر دیا۔ عورت کے لیے نرم، محدود اور تابع کردار پسند کیے گئے، جبکہ طاقت اور اختیار کو مردانہ وصف قرار دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی خاتون کسی بااختیار منصب پر پہنچتی ہے تو اکثر اس کی قابلیت کے بجائے اس کی جنس زیر بحث آ جاتی ہے۔

 حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی خواتین نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے۔ سیاست میں خواتین نے قیادت کی، عدلیہ میں جج بنیں، فضائیہ میں لڑاکا پائلٹ بنیں، بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچیں اور کھیلوں سمیت بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کیا۔ اگر خواتین ملک چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں تو پھر کسی گاؤں کی نمبرداری ان کے لیے کیوں ناممکن سمجھی جائے؟

 لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عدالت نے بورڈ آف ریونیو کے کردار پر بھی تنقید کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ادارہ قانونی تضادات اور میرٹ کے درست جائزے میں ناکام رہا۔ یہ آبزرویشن دراصل ہمارے ادارہ جاتی نظام کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ انتظامی اختیارات کو من مانی انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ادارے میرٹ اور آئینی اصولوں کی پاسداری نہیں کریں گے تو انصاف کا تصور کمزور ہو جائے گا۔

 یہ فیصلہ صرف خواتین کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ عدالتیں آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک ہیں اور صنفی تعصب کو قانونی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

 ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فیصلے کو محض ایک عدالتی خبر سمجھ کر فراموش نہ کر دیا جائے۔ اصل چیلنج عدالتی حکم سے آگے بڑھ کر معاشرتی رویوں کو بدلنا ہے۔ جب تک عورت کو قیادت، اختیار اور فیصلہ سازی کے حق دار شہری کے طور پر دل سے تسلیم نہیں کیا جائے گا، تب تک حقیقی برابری ممکن نہیں ہوگی۔

 کلثوم اختر کی بطور مستقل نمبردار تقرری شاید ایک گاؤں کی حد تک محدود معاملہ دکھائی دے، لیکن حقیقت میں یہ اس بڑی جنگ کا حصہ ہے جو پاکستان میں مساوی حقوق، میرٹ اور سماجی انصاف کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ آنے والے وقتوں میں نہ صرف عدالتی نظیر کے طور پر یاد رکھا جائے گا بلکہ شاید اس سوچ کی تبدیلی کا آغاز بھی ثابت ہو جس میں عورت کو صرف گھر کی چار دیواری تک محدود سمجھا جاتا تھا۔