چند ہی گھنٹوں میں بے جگر سپاہیوں اور ان سپاہیوں کے سالاروں نے آپریشن سیندور کو سفید جھنڈے کے پیچھے چھپنے پر مجبور کر ڈالا۔
بھارت کی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا جنگ کو سمجھنا صرف پاکستانیوں کے لئے ہی نہیں دنیا کے لئے بھی اہم ہے۔
پہلگام میں اپنے 26 سیاحوں کو بے رحمی کے ساتھ قتل کروانے کے بعد بھارت نے پاکستان کی طرف انگلی اٹھائی کہ نام نہاد دہشتگرد پاکستان نے بھیجے تھے، پاکستان ثبوت مانگتا رہا، واقعہ کی غیر جانبدار انٹرنیشنل تحقیقات کے مطالبے کرتا رہا اور انڈیا کی شقی القلب ہندوتوا پرست حکومت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متعدد مسجدوں پر حملے کر دیئے۔ مسجدوں پر رات کے اندھیرے میں شب خون کو ہندوتوا کو دنیا پر مسلط کرنے کا خواب دیکھنے والوں نے "آپریشن سیندور" کا تعصب بھرا بدبو دار نام دیا۔ پاکستان کے کئی شہروں میں حملوں کے لئے صرف مسجدوں کا ہی انتخاب کیوں کیا۔ ان مسجدوں کو ڈھا کر بھارت کی ہندوتوا پرست حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ہندوستانی فوج نے بدھ کے روز نصف شب پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چنیدہ مساجد کو نشانہ بناتے ہوئے دو درجن میزائل حملے کیے اور اپنی اس انتہا پسندانہ دہشتگردی پر مبنی حرکت کو " آپریشن سیندور" کا نام کیوں دیا کیونکہ اس کا مقصد کسی نام نہاد خیالی دہشتگردی کا خاتمہ نہیں بلکہ پاکستان اور انڈیا کے اندر کی جا رہی سیندوری دہشتگردی کے زوال اور منطقی انجام کو روکنا ہے۔
کشمیر کی لائن آف کنٹرول سے لے کر سیال کوٹ کی ورکنگ باؤنڈری اور اس سے نیچے پہاول پور تک پاکستان کے شاہینوں نے سیندوری ناٹک باز بزدل کو ایسا بھیانک سبق سکھایا کہ انڈین پائلٹس کی کم از کم اس جنریشن کو تو وہ کبھی فراموش نہیں ہو گا۔ پانچ جدید طیارے ایسے مار گرائے جیسے بلاول بھٹو کے الفاظ میں وہ مچھر ہوں۔ اب یہ حقیقت سامنے آ چکی ہے کہ پاک فضائیہ کے پائلٹس کو محدود کارروائی کرنے کا حکم تھا۔ انہیں جنگ کی ڈائینامکس کے مطابق فیصلے کرنے کے لئے فری ہینڈ دیا گیا ہوتا تو نصف شب مسل دیئے گئے مچھروں کی تعاد کہیں زیادہ ہوتی۔
پاک فضائیہ کے شاہینوں کا ٹاسک پاکستان کی طرف بڑھنے کی جسارت کرنے والے مچھروں کو ایکسٹرمینیٹ کرنا تھا، انہوں نے کمال مہارت سے مشن مکمل کئے۔ پاک آرمی کے حصے میں ریگولر بارڈر، ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول ہر جگہ دشمن کی مہم جوئی کو کبھی نہ بھولنے والا جواب دینے کا ٹاسک آیا۔
اس پیچیدہ ٹاسک کو انجام دینے کے لئے پاک فوج نے ایسی تیاری کی کہ بزدل کو سرحد کے نزدیک ہی پھٹکنے کی جرات نہیں ہوئی البتہ لائن آف کنٹرول پر جہاں وہ عرصہ دراز سے وادی کے نسبتاً بلند علاقوں میں واقع مورچوں کی معمولی تزویراتی برتری اورجدید توپ خانے کی نام نہاد برتری کو لے کر کسی زعم میں مبتلا رہا ہے، بزدل نے خوب گھن گرج دکھائی، یہ گھن گرج ہمارے لئے نئی نہیں، سالوں سے بھگت رہے ہیں۔ اور 22 اپریل کو خود اپنوں کو اپنے ہی ہاتھ سے مار کر پاکستان پر الزام دھرنے کے ساتھ ہی بزدل نے لائن آف کنٹرول پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک لاتعداد مورچوں سے بلا اشتعال حملے کرنے کا آغاز کر دیا تھا۔
ایل او سی کے ایک ایک انچ پر پاکستان آرمی کو جوانوں کا کنٹرول ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، بزدل کی اندھا دھند فائرنگ کا 7 مئی کو صبح پونے ایک بجے تک پاکستان آرمی نے صبر، تحمل اور برداشت کے ساتھ سرف اس قدر ہی جواب دیا جس قدر انتہائی ضروری تھا۔ کیونکہ پاکستان ایسکلیشن نہیں چاہتا تھا۔
جب منگل اور بدھ کی شب بیک وقت کئی شہروں میں مسجدوں پر میزائل مارنے کی حماقت کر چکا تو لائن آف کنٹرول پر پاکستان آرمی کے جوان قہر کی بجلیاں بزدل کے مورچوں پر گرانے کے لئے آزاد ہو گئے۔ دو ہفتوں سے صبر، تحمل کی بندش سے آزاد ہو کر انہوں نے بذدل کے ساتھ وہ کیا جس کا اس کو گمان تک نہیں تھا۔
علی الصبح بزدل رو رو کر دنیا کو بتا رہا تھا کہ پاکستان آرمی نے لائن آف کنٹرول پر اتنے سویلین مار ڈالے ہیں اور اتنے سویلین زخمی کر ڈالے ہیں لیکن حقیقت اس وقت دنیا کے سامنے آ گئی جب دن کا اجالا ہو چکا اور بزدل کے مورچوں سے سفید جھنڈے لہرائے جانے کی ویڈیوز بن بن کر دنیا کے سامنے آنے لگیں۔
لائن آف کنٹرول پر بزدل کے لاتعداد مورچے خوف سے بھرے سپاہیوں کے لئے جہنم بن گئے ہیں۔ کچھ اب تک اپنے خوف کو برداشت کر رہے ہیں، جن کی برداشت جواب دے جاتی ہے وہ سفید کپڑا نکال کر جھنڈا بنا لیتے ہیں اور مورچے پر لہرا دیتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے جان بخش دینے کی التجائیں ہیں جو دو ہفتوں سے خود جارحیت کرنے والے بدھ کے روز صبح سے شام تک کرتے رہے۔
ان التجاؤں کی نوبت کیوں آئی؛ پاکستان آرمی کے جوانوں کے لئے مسجد سے آگے کچھ مقدس نہیں، مسجدیں بے سبب شہید کی گئیں، انسانوں کی معاشرت میں عورت اور بچے کو ہر طرح کی جنگی سرگرمی میں بچایا جاتا ہے، بزدل نے رات کے اندھیرے میں مسجدیں تو شہید کیں ہی، عورتوں اور بچوں کو بھی شہید کر ْ ڈالا۔ ہفتوں کے ضبط کا بند افسران کی طرف سے اجازت ملنے سے کھلا تو قہر کی بجلیاں کڑکنا ہی تھیں۔ یہ بجلیاں اب تب تک کڑکتی رہیں گی جب تک پاک فوج کے سپاہی سے لے کر سپاہ سالار تک اور سویلین قیادت سے لے کر عام شہریوں تک سب کے متفقہ عزم کے مطابق بے گناہوں کے خون کی ایک ایک بوند کا حساب برابر نہیں کر لیا جاتا۔
دنیا کے لئے انڈیا کا نیریٹِو
چھ اور سات مئی کی درمیانی رات ہندوستان نے جن شہروں اور مقامات پر حملہ کیا ان کی کیا اہمیت ہے؟ اور ان حملوں کو انڈیا کی پبلک کے سامنے "آپریشن سیندور" کا نام دینے والی نریندر مودی حکومت دنیا کے سامنے کیا بنا کر پیش کر رہی ہے۔
بھارت نے اپنے شہریوں کو اور دنیا کو یہ بتایا کہ مسجدوں پر پھینکے گئے میزائل بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پہلگام میں 22 اپریل کو سیاحوں پر ہونے والے مہلک حملے کا "جواب" تھے، جس کے دوران 26 افراد مارے گئے تھے۔ کہانی یہ گھڑی گئی تھی کہ پہلگام حملہ پاکستان سے تعلق رکھنےوالے جہادیوں نے کیا تھا۔
کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرنے والے نام نہاد مزاحمتی محاذ (TRF) پر اس حملے کا الزام مڑھا اور اس گروپ کا تعلق لشکرِ طیبہ سے جوڑا۔ انڈیا کی اس کہانی سے دنیا کے عام انسانوں کو کوئی دلچسپی نہیں تاہم دنیا کی حکومتوں کے لئے یہ ایک بڑی ریاست کا نیریٹِو بہرحال ہے جسے ان کو سننا اور اپنے اپنے مفاد کے مطابق کنسیڈر کرنا ہے۔
نیریٹِو کے غبارے میں سوئی
اسلام آباد نے پہلگام حملے کی ہی شام بھارت کے بلا اشتعال جارحانہ اقدامات میں سے ہر ایک کا دوگنا کر کے جواب دیا لیکن پہلگام میں سیاحوں کے قتل کے الزام سے صاف انکار کیا، صرف انکار ہی نہیں کیا بلکہ انترنیشنل کمیونٹی سے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور وزیراعظم خود متحرک ہوئے اور دنیا کے بہت سے اہم ملکوں، خاص طور سے پاکستان کے دوست ملکوں کو پہلگام واقعہ کی تحقیقات کے اپنے مطالبے سے آگاہ کیا، انہیں کہا کہ وہ انڈیا پر پہلگام واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات کرنے کے لئے قائل کریں۔ پاکستان کا مؤقف سادہ، سیدھا اور سمجھ میں آنےوالا ہے، اس کا اثر غیر معمولی تیزی سے ہوا اور دنیا بھارت کی پرانی راگنی "جہادی دہشتگردی" کو فراموش کر کے پاکستان کے منطقی مطالبہ کی قائل ہو گئی۔
اس قائل ہو جانے کے پیچھے یہ عوامل بھی کارفرما ہیں کہ پاکستان مدت ہوئی کشمیر میں ایکٹوزم کرنے والی تنظیموں کی سرگرمیاں رکوا چکا ہے، پاکستان کے اندر ایسا کوئی نیٹ ورک موجود نہیں جو پاکستان سے باہر کہیں کوئی سرگرمی کرتا ہو یا کر سکتا ہو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان حالیہ برسوں میں نام نہاد "جہادی" سرگرمی کے خلاف خود دنیا میں سب سے مؤثر کیمپین کر رہا ہے اور فسادیوں کو جہاد کا مقدس مذہبی نیریٹیو استعمال کرنے سے عملاً محروم کر کے انہیں خارجی قرار دیتے ہوئے ان کی سپیس تقریباً ختم کر چکا ہے۔ یہ بھی کہ پاکستان کے اندر فساد مچانے والے دہشتگردوں کو بھارت کی ہی سرپرستی اور فنڈنگ مل رہی ہے۔
یہ تمام باتیں دنیا کے اہم ممالک کو بتانے کی ْجرورت نہیں کیونکہ اسلام آباد میں سفارت خانہ رکھنے والے ہر اہم ملک کے سفارتکار عرصہ سے ان حقائق کو خود جانتے ہیں اور اپنی اپنی حکومتوں کو بتاتے چلے آ رہے ہیں۔
یہ پاکستان وہ پاکستان نہیں جسے بھارت کی اسٹیبلشمنٹ نے دو دہائیاں پہلے بمبئی حملوں کی سرپرستی کا مکروہ لیبل لگا کر بدنام کیا تھا۔ یہ پاکستان خود دہشتگردوں سے لڑ رہا پاکستان ہے اور بھارت خود مذہب اور بد ترین تنگ نظر نسل پرستی کو ہتھیار بنانے والے غلیظ ترین دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے میں ملوث ہے۔
بھارت کے اندر کونفلکٹ
بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت اپنا گولڈن وقت گزار کر زوال کی ڈھلان پر پھسل رہی ہے، یہ بنیادی حقیقت ہے کہ ہندوتوا اپنی آخری لڑائیاں لڑ رہی ہے اور پاکستان دشمنی اس کی آخری پناہ گاہ ہے۔ پہلگام کی کہانی کو بھارت کے اندر پاکستان سے پہلے خود پہلگام سمیت سارے مقبوضہ کشمیر پر حکومت کرنے والی کانگرس اور نیشنل کانفرنس نے چیلنج کیا اور اس عمل کو انجام تک کانگرس کے مرکزی صدر کھڑگے نے پہنچایا جنہوں نے سیدھا سیدھا یہ بتا دیا کہ نریندر مودی کی حکومت کو تو پہلگام واقعہ کا پہلے سے پتہ تھا۔
گزشتہ سال لوک سبھا اور اس کے بعد ریاست کشمیر کی اسمبلی کے الیکشن میں کشمیریوں نے ووٹ کے جوتے مار کر مودی کی بھاجپا کو ریاست کی سیاست سے دیس نکالا دیا تھا۔ اب وہاں مودی کے بس میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ کوئی پہلگام برپا کریں اور اس کی آڑ میں ریاست کو سکیورٹی سٹیٹ بنائیں۔
پہلے جب بھی پاکستان کو پنچنگ بیگ بنایا، لبرل کانگرس خود کو ہندوتوا پرستوں کے ردعمل کی لپیٹ میں آنے سے بچانے کے لئے خاموش رہی ،اس مرتبہ کانگرس خاموش نہیں، گلی کے کارکن سے لے کر صدر کھڑگے تک سب بول رہے ہیں کیونکہ ہندوتوا کا اب چل چلاؤ ہے۔
فیک نیریٹیو کا انتِم سنسکار
بھارت کی مودی حکومت کے بنائے ہوئے نام نہاد نیریٹیو کے بخئیے چند ہی روز میں ادھڑ گئے تو مودی نے باز آ جانے کی بجائے عجلت میں عظیم حماقت کر ڈالی، ناکام نیریٹیو کے ہی ساتھ پاکستان کے اندر چار مسجدیں شہید کر ڈالیں، دعویٰ یہ کہ ان مسجدوں میں پہلگام کے سیاحوں کو قتل کرنے کی پلاننگ کی گئی تھی۔ بیک وقت دو مشہور تنظیموں کو ملوث قرار دے ڈالا جو جب واقعی کشمیر میں ایکٹوزم کرتی تھین تب کبھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام نہیں کرتی تھیں۔
پاکستان کے لئے پہلا ہنگامی ٹاسک تو منگل بدھ کی درمیانی رات کو ہوئے حملوں کا دندان شکن جواب دینا تھا جو پاکستان آرمی، ائیر فورس کی قیادت اور جوانوں نے مکمل ذمہ داری کے ساتھ پورا کر لیا، اب دوسرا ٹاسک سویلینز کے قتل کی انصاف کے ساتھ تول کر سزا دینا ہے جس کے لئے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت پرعزم ہے، تیسرا ٹاسک سفارتی محاذ پر بھارت کے الزام تراشی پر مبنی سرگرمیوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہے۔ ان اقدامات کے لئے تمام درکار عوامل موجود ہیں۔ اپنے وقت پر یہ اقدامات مکمل کئے جائیںگے۔
سندھ طاس معاہدہ سے انکار ؛ پانی روکنا اور پانی کھولنا
بھارت نے کسی نامعلوم خوش فہمی میں مبتلا ہو کر سندھ طاس معاہدہ کو معطل کر دیا ہے جس پر پاکستان فوجی سطح پر بھی جواب دے سکتا ہے اور انٹرنیشنل ثالثی کے ذریعہ بھی بھارت کو سزا دے سکتا ہے؛ بھارت اگر تین دریاؤں کا پانی روکنے کی لاحاصل کوشش میں پڑے گا تو اس کے سندھ طاس معاہدہ میں ملے ہوئے تین دریاؤں کا پانی کھول ڈالنا پاکستان کے لئے کوئی بڑی ڈیل نہیں، جعفر ایکسپریس جیسی شرم ناک دہشتگردی کی پشت پناہی کرنے کی نسبت کسی سٹرکچر کو ڈس مینٹل کر دینا یقیناً بہت آسان ہوتا ہو گا۔
اگر پاکستان کی زراعت کا انحصار سندھ طاس معاہدہ سے ملے تین دریاؤں کے پانی پر ہے تو بھارت کے ایک ارب سے زیادہ انسانوں کو گندم دینے والی زمینوں کا انحصار بھی سندھ طاس معاہدہ سے بھارت کو ملے تین دریاؤں کے ہی پانی پر ہے، پانی روکنا ممکن ہے تو پانی کو کھول دینا بھی ناممکن نہیں۔
بھارت کا برباد شدہ نیریٹیو؛ حملوں کا جواز کیسے پیش کرنے سے لاچار
ہندوستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے "دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے" کو نشانہ بنایا، جس میں لشکر طیبہ اور جیش محمد (JeM) سمیت تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا۔
بدھ کو ایک بریفنگ میں، ہندوستانی خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے اصرار کیا کہ میزائل حملے "دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے اور ممکنہ طور پر ہندوستان بھیجے جانے والے دہشت گردوں کو غیر فعال کرنے پر مرکوز تھے"۔بھارتی فوجی حکام کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے آپریشن کی تفصیل بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے جن نو مقامات کو نشانہ بنایا ان میں سے پانچ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تھے۔ باقی چار پنجاب میں تھے - بہاولپور، مریدکے، شکر گڑھ اور سیالکوٹ کے قریب ایک گاؤں میں۔بریفنگ کے دوران، ہندوستانی فوج نے ایک نقشہ دکھایا جس میں اس کا دعویٰ تھا کہ پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 21 "دہشت گرد کیمپ" ہیں۔
نشانہ کوئی نام نہاد ٹریننگ کیمپ ہوتے تو شاید دنیا کو کنفیوژن میں ڈالنا ممکن بھی ہوتا۔ مسجدوں میں دشہتگردی کا "بنیادی ڈھانچہ "؟ نشانہ بننے والی عورتیں تھیں، بچے تھے اور سادہ لوح سویلین مرد جن کی کسی طرح کی مشکوک سرگرمی کی کوئی ہسٹری نہیں تھی۔
اندین اسٹیبلشمنٹ کی پاکستان کے اندر کھلی دہشتگردی کے بعد دنیا کے میڈیا اور خود بھارت کے میڈیا کے لئے اس ڈھٹائی پر مبنی بریفنگ کا امپیکٹ کیا ہے، امپیکٹ یہ ہے کہ الجزیرہ نیوز نے بھارت کے دعووں کے ساتھ یہ لکھا یہ الجزیرہ ان دعووں کی تصدیق نہیں کر سکا۔
مزید یہ کہ آج جمعرات کے روز پاکستان نے دنیا کے میڈیا کو بھارتی میزائلوں سے شہید ہونےوالی مسجدیں دکھائیں جن کے بارے میں احمقانہ دعویٰ یہ ہے کہ "دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ" ہیں۔ پاکستان کی آرمی کے ترجمان جنرل احمد شریف چوہدری نے دنیا کے میڈیا کو تبایا کہ بھارت کی ریاستی سطح کی دہشتگردی میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 31 شہری ہلاک اور کم از کم 57 افراد زخمی ہوئے۔ صرف مساجد اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، عام شہریوں کو شہید اور زخمی کیا گیا۔
ہمیں حساب بے باک چاہئے اور ہمیں کوئی جلدی نہیں!
سیندور سے سفید جھنڈے تک سفر کے لئے چوبیس گھنٹے ہی لگے، اس سے آگے لائن آف کنٹرول پر جتنا زیادہ بھارت اچھلے گا اتنا ہی زیادہ پاکستان کے جوان اسے ضربیں لگا کر bleed کریں گے۔ یہ وہ میدان ہے جو دوڑنے کے لئے کھلا ہے، جب تک بھارت تھک نہیں جاتا، یہاں دوڑ سکتا ہے، دوڑتا رہے؛ ایل او سی اسے ایک انچ بھی آگے نہیں جا سکے گا اور سات مئی کے سویلین شہیدوں کے خون کا حساب کیسے کب کہاں لینا ہے، یہ جن کو لینا ہے وہی اس پر عرق ریزی کریں، ہمیں حساب بے باک چاہئے اور ہمیں کوئی جلدی نہیں!