سٹی42: اسرائیل میں حکمران اتحاد کی عدالتی نظام میں مداخلت روکنے کے لئے "عدالتی اصلاحات کے خلاف مظاہرین" آج شام تل ابیب میں احتجاجی مارچ کریں گے۔یہ احتجاج اسرائیل کی خاتون اٹارنی جنرل گالی بہاروومیارا کو عہدہ سے برطرف کرنے اور شین بیت کے چیف رونن بار کو برطرف کرنے کی کوششوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔
آج شام بظاہر 17 ماہ میں پہلی بار عدالتی نظام میں مداخلت کے مخالف ایک بار پھر سڑک پر احتجاج کے لئے آ رہے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کو جب حماس نے اسرائیل کے اندر گھس کر جنوبی سرحدی علاقوں کے گاؤں، ایک فوجی چوکی اور نووا میوزک فیسٹیول میں گھس کر قتل عام کیا تو اس وقت اسرائیل میں عدالتی نظام میں مداخلت کے خلاف عوامی تحریک عروج پر تھی۔ حماس کے حملہ کے نتیجہ میں سات اکتوبر کو ہی غزہ مین جنگ شروع ہو گئی تھی۔ اس جنگ کے دوران نہ نیتن یاہو کی حکومت نے اپنے "عدالتی اصلاحات" کے منسوبے کو چھیڑا، نہ ہی اس مداخلت کے مخالفوں نے کوئی سرگرمی کی۔
حکومت کی عدالتی تبدیلی کے خلاف احتجاج کرنے والے رہنما آج شام پاکستانی وقت کے مطابق شب سوا نے بجے تل ابیب میں مارچ کریں گے،
اب یہ احتجاج وزیر انصاف یاریو لیون کی جانب سے اٹارنی جنرل گالی بہاراو مائارا کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا عمل شروع کرنے کے بعد سامنے آیا۔ اس انڈیپینڈنٹ اٹارنی جنرل خاتون نے کئی اہم معاملات میں وزیراعظم نیتن یاہو کی ھکومت کی مخالفت کی جس کے سبب اتحادی جماعتوں کے لیڈر اور کارکن ان پر "اپنے عہدے پر سیاست کرنے" اور "حکومت کی مرضی کو بار بار ناکام بنانے" کا الزام عائد کر کے ان کے کام اور پوزیشن کو پولیٹیسائیز کرنے کی کوشش کرتے رہے، اب وزیر انصاف یاریو لیون نے خاتون اٹارنی جنرل گالی بہاراومائارا کو عہدہ سے ہی برخواست کر دیا۔ اور شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کے لیے اتحادی جماعتوں کے لیڈر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ شین بیت کے سربراہ کا قصور بھی انڈیپینڈنٹ اٹارنی جنرل خٓتون کی طرح نیتن یاہو حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے سے گریز کرنا ہے۔
عبرانی میڈیا کے مطابق احتجاجی تحریک کے رہنماؤں نے ایک بیان میں کہا، "جس طرح ہم نے 2023 میں بغاوت کو روکا اور جس طرح ہم نے فوج اور ریزرو میں بھرتی کا یونیورسل قانون لاگو کروایا اور 2024 میں ریاست کے انہدام کو روکا، اسی طرح 2025 میں ہم دوبارہ تباہی کو روکیں گے اور بغاوت اور یرغمالیوںکے ایشو کو نظرانداز کرنے کو چھوڑنے کو روکیں گے،"
احتجاجی قائدین آج شام تل ابیب کے حبیبہ اسکوائر پر 6:45 پر جمع ہوں گے۔اور پھر IDF ہیڈ کوارٹر کے بیگن گیٹ پر یرغمالیوں کے اہل خانہ کے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے مارچ کریں گے۔
مارچ کی قیادت "جوڈیشل اوور ہال" کے مخالف مظاہروں کی سرکردہ شخصیات کریں گی، جن میں شکما بریسلر، ایم کے افرات ریتن، موشے رادمان ابوتبل اور یایا فنک شامل ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کو دہشت گردی کے حملے کے بعد عدالتی اصلاحات کے خلاف احتجاج کو منجمد کر دیا گیا تھا، جس میں بہت سی سرگرم تنظیموں نے سول سوسائٹی کے بہت سے اقدامات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔