ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 پاکستانی فٹبال کلب کی پہلی خاتون صدر اور کوالیفائیڈ کوچ زینب مشتاق خواتین کیلئے رول ماڈل 

 پاکستانی فٹبال کلب کی پہلی خاتون صدر اور کوالیفائیڈ کوچ زینب مشتاق خواتین کیلئے رول ماڈل 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پاکستان میں فٹبال کلب کی پہلی خاتون صدر اور فیفا کوالیفائیڈ کوچ زینب مشتاق خواتین کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔کوچنگ کے شعبہ میں مردوں کی اجارہ داری کے باوجود زینب نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور پہلی بار قومی سطح کے ایونٹ میں لڑکوں کی ٹیم کی ہیڈ کوچ بن کر تاریخ رقم کی، اس کے علاوہ پنجاب کی خواتین ٹیم کی بھی کوچنگ کی۔ پاکستان میں فٹبال کی ترقی اور نوجوان ٹیلنٹ کی پرورش کے میدان میں زینب مشتاق ایک ایسا نام ہیں جنہوں نے اپنی انتھک محنت، عزم اور لگن سے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

تقریباً 20 سالہ کوچنگ تجربے کی حامل زینب مشتاق نے اپنے شوق کو اپنا پیشہ بنایا اور آج وہ پاکستان میں خواتین فٹبال کوچنگ کی ایک نمایاں اور بااثر شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ زینب مشتاق ر پنجاب ویمن ہیڈ کوچ گولڈ میڈلسٹ ہیں۔ انہوں نے نہ صرف خواتین بلکہ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی فٹبال تربیت کے لیے گراس روٹ اور یوتھ لیول پر غیرمعمولی خدمات انجام دی ہیں۔ زینب مشتاق پاکستان کی تاریخ میں ایک منفرد اعزاز رکھتی ہیں۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون ہیں جو نیشنل فٹبال کلب کی کی بانی، صدر اور ہیڈ کوچ ہیں اور خود اپنے کلب اور اکیڈمی کو کامیابی سے چلا رہی ہیں۔ ان کی قیادت میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو بین الاقوامی معیار کی فٹبال ٹریننگ فراہم کی جا رہی ہے۔یہ صرف ایک اکیڈمی نہیں بلکہ نوجوانوں کے خوابوں کی تعبیر کا مرکز بھی بن چکی ہے، جہاں سے تربیت حاصل کرنے والے متعدد کھلاڑی پاکستان کی مختلف قومی اور صوبائی ٹیموں تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کے تیار کردہ کئی لڑکے اور لڑکیاں پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی معروف کالجز اور یونیورسٹیوں میں فٹبال سکالرشپس کے ذریعے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

زینب مشتاق کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف خواتین فٹبال تک محدود نہیں رہیں بلکہ پاکستان میں پہلی خاتون کوچ کے طور پر لڑکوں کے یوتھ فٹبال کلب کی قیادت کرتے ہوئے نوجوان مرد کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت بھی کر رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا سنگ میل ہے جس نے پاکستانی فٹبال میں خواتین کی قیادت کے حوالے سے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے وہ مسلسل گراس روٹ اور یوتھ فٹبال ڈویلپمنٹ پر کام کر رہی ہیں اور ان کا مشن نوجوان نسل کو کھیل، تعلیم اور مثبت مواقع فراہم کرنا ہے۔ زینب مشتاق کا سفر اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جذبہ، محنت اور مستقل مزاجی کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ آج وہ نہ صرف ایک کامیاب کوچ بلکہ پاکستان کی نوجوان نسل، خصوصاً خواتین کے لیے ہمت، قیادت اور کامیابی کی ایک روشن مثال بن چکی ہیں۔