ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے اور پراپرٹی سیکٹر کیلئے بڑے ریلیف کی تجویز

بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے اور پراپرٹی سیکٹر کیلئے بڑے ریلیف کی تجویز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ے ساتھ اہم مشاورت میں مصروف ہے، جبکہ متعدد ٹیکس ریلیف اقدامات اور نئے محصولات سے متعلق تجاویز تاحال منظوری کی منتظر ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس سلیب میں کمی کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ سپر ٹیکس میں 2 فیصد کمی، برآمدی شعبے پر عائد ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس کے خاتمے اور پراپرٹی سیکٹر کے لیے خصوصی مراعات بھی بجٹ تجاویز کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب محصولات میں اضافے کے لیے سولر پینلز، ہائبرڈ گاڑیوں اور تقریباً دو درجن دیگر اشیاء پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو بڑھا کر 18 فیصد کی معیاری شرح تک لانے پر مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم حکومت نے ماحول دوست پالیسیوں کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر کم شرحِ ٹیکس برقرار رکھنے کی درخواست آئی ایم ایف کے سامنے رکھی ہے۔

حکومتی مؤقف ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے ضروری ہے، اسی لیے ان پر ٹیکس میں اضافے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ یہ موقف آئی ایم ایف کے 1.4 ارب ڈالر کے ’’ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلیٹی‘‘ پروگرام کے تناظر میں اختیار کیا گیا ہے۔

اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق موجودہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف کم کرکے 13 ہزار 428 ارب روپے کر دیا گیا ہے، تاہم آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف بڑھا کر 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معاشی حالات اور محصولات کے چیلنجز کے پیش نظر اس بڑے ہدف کا حصول حکومت کے لیے آسان نہیں ہوگا۔