سٹی42: رجب بٹ کے وکیل میاں اشفاق اور ان کے خلاف مقدمہ درج کروانے والے وکلاء کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف دائر تمام مقدمات اور درخواستیں واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
مذاکرات کے بعد میاں علی اشفاق نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان تمام معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان کے مطابق درج مقدمات کے محرکات کا جائزہ لیا گیا اور اس واقعے کے باعث پیدا ہونے والی مجموعی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ تمام مسائل خوش اسلوبی سے حل کرنے پر اتفاق ہوا ہے، چاہے معاملہ ایڈووکیٹ ریاض سولنگی سے متعلق ہو یا ان کے موکل رجب بٹ سے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران کسی بھی فریق پر کوئی شرائط عائد نہیں کی گئیں اور معاملہ باہمی رضامندی سے طے پایا۔
میاں اشفاق نے مزید بتایا کہ وہ گزشتہ تقریباً دس برس سے سندھ بھر میں وکالت کر رہے ہیں، جبکہ اس تنازع کے حل میں عامر وڑائچ نے اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث مسئلہ خوشگوار ماحول میں انجام تک پہنچا۔
اس موقع پر صدر کراچی بار عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ اس واقعے سے کراچی بار کی ساکھ متاثر ہوئی، حالانکہ کراچی بار میں ہر قوم، مذہب اور فرقے کی عزت کی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وکلاء مذہبی معاملات پر وکالت تو کر سکتے ہیں، مگر خود کسی فریق کی جماعت نہیں بننا چاہیے۔
عامر نواز وڑائچ کا کہنا تھا کہ کراچی بار قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، اسی وجہ سے اسے ہدف بنایا گیا اور اس واقعے کے ذریعے وکلاء کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج دونوں فریقین کو مکمل فری ہینڈ دیا گیا اور بار کی جانب سے کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا۔ صدر کراچی بار نے واضح کیا کہ تشدد کی کبھی حمایت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے وکلاء سے اپیل کی کہ اگر کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ بار سے رجوع کرے اور سائل کورٹ آنے والے ہر فرد کو عزت دی جائے۔