جاﺅ بسنت مناﺅ ، لاہوریئے عمران حکومت کے فیصلے کے منتظر


(جمال الدین جمالی) جَشن بہاراں کا تہوار بسنت شہر لاہور کی جان تھا، پنجاب کے سبھی لوگ اس تہوار کو ذوق و شوق سے مناتے تھے، نیلا آسمان دیدہ زیب رنگوں کی پتنگوں سے سج جاتا تھا، چھٹی کے روز دن بھر فضا بوکاٹا اور آئی بُو کی آوازوں سے گونجتی رہتی تھی، شہرِ لاہور کی سڑکوں کو رنگ برنگی پتنگوں سے دلہن کی طرح سجایا جاتا تھا، مگر اب بسنت، ایک قصہ پارینہ بن چکی ہے۔

بسنت لاہور کے کلچر کا ایک خوبصورت حصہ تھا، ہزاروں افر اداس کاروبار سے وابستہ تھے اب نہ وہ وقت رہا نہ وہ پرانا لاہور ،عمران خان بسنت کے بڑے سپورٹر رہے ہیں وہ خود پتنگ بازی کرتے رہے ہیں، لاہوریوں نے وزیر اعظم عمران خان سے بسنت کا تہوار اور خوشیاں لوٹانے کی اپیل کی ہے۔

پتنگ بازوں کا کہنا ہے کہ لاہور کی بسنت کو دنیا میں روشناس کرانے میں وزیر اعظم عمران خان کا بھی ایک کردار رہا ہے، عمران خان طویل عرصے تک ہر سال بسنت کے موقع پر اندرون شہر  پتنگ بازی کیا کرتے تھے،  پچھلی ایک دہائی سے اپنے پسندیدہ تہوار سے محروم لاہوریوں نے ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان سے اُمیدیں لگا لی ہیں کہ وہ ان کو بسنت واپس دلوا دیں گے۔

 شہریوں کا کہنا ہے کہ اس حکومت نے بسنت منانے کی اجازت دے دی تو یہ مہنگائی سے ستائے عوام کے لئے خوشی کی خبر ہوگی، شہری اس لاہور کو یاد کرتے ہیں جس میں ہر طرف خوشی کا راج ہوتا تھا۔

زندہ دل لاہوریوں کا کہنا ہے کہ بسنت سے شہر میں معاشی سرگرمی اور کلچر کو فروغ ملے گا، شہری بسنت کی خوشخبری کے منتظر ہیں، پچھلی ایک دہائی سے لاہوریئے اپنے پسندیدہ تہوار سے محروم ہیں پتنگ بازی آسمان اور ہواﺅں سے کھیلنے کا نام ہے، لاہوریئے پی ٹی آئی حکومت سے "جاﺅ بسنت مناﺅ فیصلے" کے منتظر ہیں۔

Sughra Afzal

Content Writer