ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ سے مودی کے خاص تعلقات کا دعویٰ بے نقاب, اپوزیشن لیڈر کی سخت تنقید

 Pakistan USA diplomacy, Narendra Modi, Field Marshal Asim Munir, City42
کیپشن: کانگرس کے رہنما جے رام رمیش نے انڈیا کی پروڈکٹس پر امریکہ میں  بھاری ٹیرف لگنے کے بعد مودی اور ٹرمپ کے خاص تعلق پر طنز کی  اور پاکستانی آرمی چیف کی امریکہ میں پذیرائی کا حوالہ دیتے ہوئے مودی کو ناکام قرار دیا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  امریکہ بھارت تعلقات بگڑنے کے ہنگام میں ایک بار پھر  بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید ہو رہی ہے کہ ٹرمپ سے ان کے خاص تعلقات کا دعویٰ بے نقاب ہو گیا ہے، اس کے ساتھ بھارت میں  کانگرس کے سینئیر رہنما کے اس بیان کا بھی چرچا ہے کہ  پاکستانی آرمی چیف کو امریکہ میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

کانگرس کے رہنما جے رام رمیش نے جمعہ کے روز سوشل پلیٹ فارم ایکس پر اپنے وزیراعظم کی پالیسیوں کی ناکامی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مودی کا ٹرمپ سے خصوصی تعلقات کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا، جبکہ پاکستانی آرمی چیف آصف منیر کو ایک بار پھر امریکی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔
 بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مبینہ "خصوصی تعلقات" کے دعوے پر  اپوزیشن الائنس کی سربراہ پارٹی کانگریس نے ایک بار پھر سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے جمعہ کو طنز کرتے ہوئے کہا کہ مودی کا یہ دعویٰ اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ ان کا یہ تبصرہ اس پس منظر میں آیا ہے جب پاکستان کے آرمی چیف جنرل آصف منیر کو ایک بار پھر امریکہ مدعو کیا گیا ہے۔
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل آصف منیر اس بار امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا کی ریٹائرمنٹ کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں۔ یہ دعوت اس وقت دی گئی ہے جب حال ہی میں جنرل کوریلا نے امریکی کانگریس میں پاکستان کو انسداد دہشت گردی کے آپریشنز میں شاندار شراکت دار قرار دیا تھا۔  کانگرس کے رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ یہ بیان بذات خود ایک عجیب و غریب سند ہے۔ 

جے رام رمیش نے سوشل پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا، ’’فیلڈ مارشل عاصم منیر اب امریکہ کے نہایت پسندیدہ افراد میں شامل ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے 18 جون 2025 کو انہیں واشنگٹن میں ایک غیر متوقع عشائیے پر مدعو کیا تھا۔‘‘جے رام رمیش نے کہا کہ فیلڈ مارشل  عاصم منیر ایک بار پھر امریکہ جا رہے ہیں، اس بار جنرل مائیکل کوریلا کی ریٹائرمنٹ تقریب میں۔  یہ وہی جنرل کوریلا ہیں جنہوں نے جون میں پاکستان کی تعریف کی تھی۔

کانگرس کے رہنما نے اس موقع پر مودی حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا، ’’جنوری 2025 سے اب تک امریکہ نے ہندوستان میں کوئی مستقل سفیر مقرر نہیں کیا اور نہ ہی کسی نام کو امریکی سینیٹ میں توثیق کے لیے بھیجا گیا ہے، جب کہ چین جیسے دیگر اہم ممالک کے لیے یہ عمل مکمل ہو چکا ہے۔‘‘
بھارتی اخبار قومی آواز نے اپنی رپورٹ میں لکھا، یہ پہلا موقع نہیں جب  فیلڈ مارشل منیر کو امریکی دورے میں خاص پروٹوکول ملا ہو۔ گزشتہ سفر کے دوران بھی انہیں صدر ٹرمپ کی طرف سے غیر معمولی عزت دی گئی تھی، جو عام طور پر صرف غیر ملکی سربراہان مملکت کو دی جاتی ہے۔ تاہم اس دورے کے حوالے سے نہ تو پاکستان کے بین الخدماتی تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اور نہ ہی امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے نے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔

 بھارتی اخبار نے لکھا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس حالیہ دورے کا وقت بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے قبل امریکی جنرل کوریلا کا بیان پاکستان کے حق میں آیا تھا، جس نے خطے میں پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں پیش کیا۔ اس پورے معاملے پر کانگرس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیراعظم کا ٹرمپ کے ساتھ خصوصی تعلقات کا بیانیہ محض ایک دعویٰ تھا، جس کی حقیقت اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔