سٹی42: بھارت کی وزارت دفاع نے امریکہ کے ساتھ ٹیرف تنازعہ کے بعد بھارت کی امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری روکنے کی میڈیا رپورٹ کی تردید کر دی۔
بھارت کے میڈیا میں شائع ہونے واکی خبروں کے مطابق بھارتی وزارت دفاع نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت نے امریکہ سے اپنی دفاعی خریداری روک دی ہے۔ یہ تردید اس وقت سامنے آئی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستانی اشیاء پر 25 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔
بھارت کی کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس نے یہ رپورٹیں شائع اور نشر کی تھیں کہ امریکہ کے صدر کی طرف سے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافہ کئے جانے کے جواب میں بھارت امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی سودوں کو روک رہا ہے یا ان پر نظر ثانی کر رہا ہے۔
آج جمعہ کے روز نئی دہلی میں بھارت کی وزارت دفاع نے وضاحت کی کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور امریکہ سے جاری اور منصوبہ بند ہتھیاروں کی خریداری پر امریکہ کی جانب سے انڈین مصنوعات کیلئے ٹیرف میں اضافہ کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
بھارتی میڈیا میں امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری روکنے یا ان سودوں پر نظر ثانی کرنے کی قیاس آرائیوں سے امریکہ اور بھارت کے درمیان سفارتی تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے ابتدائی دنوں مین ہی انہوں نے دنیا کے بہت سے ملکوں پر ٹیرف بڑھانے کی مہم شروع کر دی تھی جس کی زد میں اگست کے پہلے ہفتے میں بھارت بھی آ گیا۔ صدر ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات کی امریکہ میں امپورٹ پر پہلے 25 فیصد ٹریف نافذ کیا اور انڈیا پر زور دیا کہ وہ روس سے تیل کی خریداری کے معاملہ پر نطرثانی کرے، اس کے بعد صدر ٹرمپ نے ٹیرف میں مزید 25 فیصد اضافہ کر دیا اور اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر پبلک بیان میں انڈیا کی معیشت کی حالت اور انڈیا کے روس کے ساتھ تعلقات پر زیادہ کھلے الفاظ میں تنقید کی۔
امریکہ اور بھارت کی تجارتی کشیدگی نے دوطرفہ دفاعی تعلقات پر ان کے اثرات کے بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا جو کہ قدر اور سٹریٹجک اہمیت کے لحاظ سے نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطہ کیلئے اہم ہیں۔