شیرباز بلوچ:اوباڑو (ضلع گھوٹکی) میں نویں جماعت کے کیمسٹری کے پرچے کے مبینہ لیک ہونے اور امتحانی بے ضابطگیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد تعلیمی نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق:ذرائع کا کہنا ہے کہ کیمسٹری کا پرچہ مقررہ وقت سے قبل ہی سوشل میڈیا، خصوصاً واٹس ایپ گروپس میں وائرل ہوگیا تھا۔ کئی طلبہ کے پاس امتحان شروع ہونے سے پہلے ہی سوالنامہ موجود تھا، جس سے امتحانی شفافیت متاثر ہوئی۔
امتحانی مراکز کے باہر اور اندر نقل کی بھی کھلے عام اطلاعات موصول ہوئیں۔ بعض مقامات پر طلبہ کو موبائل فون استعمال کرتے دیکھا گیا، جبکہ نگرانی کا نظام کمزور نظر آیا۔ اس صورتحال میں نقل کی روک تھام کے لیے بنائے گئے قواعد پر عملدرآمد ہوتا دکھائی نہیں دیا۔
متعدد طلبہ اور والدین نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات محنتی طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور امتحانی نظام کو شفاف بنایا جائے۔
تعلیمی حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق واقعے کی تحقیقات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر پرچہ لیک ہونے کی تصدیق ہوتی ہے تو امتحان دوبارہ لینے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر امتحانی نظام کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے، جس کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ اس طرح کی صورتحال سے بچا جا سکے۔