پیٹرول پمپس سیل کرنے کا معاملہ، ہائیکورٹ نے مقدمات کے اندراج سے روک دیا

پیٹرول پمپس سیل کرنے کا معاملہ، ہائیکورٹ نے مقدمات کے اندراج سے روک دیا
Lahore High Court

ملک اشرف: سمگل شدہ پیٹرول فروخت کرنے کے الزام پر پنجاب میں 28 سو سے زائد پیٹرول پمپس سیل کرنے کا معاملہ، لاہور ہائیکورٹ میں پیٹرول پمپس کو سیل کرنے کیخلاف درخواستوں پر سماعت، عدالت نے کسٹم حکام سمیت دیگرز محکموں کو عدالت کو مطمئن کیے بغیر مقدمات کے اندراج سے روک دیا۔

عدالت نے 20 اپریل  کو کسٹم، اوگرا اور چیف سیکرٹری  نے قانونی نقاط بارے معاونت طلب کرلی۔  فاضل جج نے حکم دیا ہے کہ بتایا جائے کہ کیا وزیر اعظم کے پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی بارے ایس او پیز قانون کے مطابق ہیں۔ کیا وزیر اعظم کے ایس او پیز اوگرا، کسٹم ایکسکلوز  قوانین کے مطابق جاری کئے گئے۔؟؟ کیا گلی محلوں میں غیر قانونی طور پر مشینوں کے ذریعے پیٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ  کے سنگل بنچ نے زین العابدین سمیت پچاس سے زائد پیٹرول پمپ مالکان کی درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سید  طیب جعفری ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی اٹارنی اسد علی باجوہ اور ڈائریکٹر اوگرا، کلکٹر کسٹم، ایکسکلزیو، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بھی پیش  ہوئے۔

درخواست گزاروں کے وکیل سید طیب جعفری ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم کی ہدایات سمگل شدہ پیٹرول پمپس کو سیل کرنے کے لئے تھیں۔  درخواست گزاروں کے جانب سے پیٹرول سمگل نہ کرنے کے باوجود مختلف الزامات پر پیٹرول پمپس کو سیل کیا گیا۔ کسٹم افسروں کی جانب سے فوری  شوکاز نوٹس دیئے۔ اسی وقت پیٹرول پمپس بھی سیل کیے گئے اور فوری مقدمات بھی درج کرواد دئیے۔

درخواست گزاروں کو قانون کے مطابق سات روز میں جواب کا موقع فراہم  نہیں دیا گیا۔ پیٹرول پمہپس کے خلاف غیر قانونی  طور پر کارروائی کی گئی۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ عدالت پیٹرول پمپس کو ڈی سیل کرنے کا حکم دے۔