ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شوگر ملز ایسوسی ایشن نےچینی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ایف بی آر کو ٹھہرا دیا

شوگر ملز ایسوسی ایشن نےچینی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ایف بی آر کو ٹھہرا دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42:شوگر ملز ایسوسی ایشن نے  وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ کو خط لکھتے ہوئے  ایف بی آر کو  چینی کی قلت اور  قیمتیں بڑھنے کا ذمہ دار ٹھہرایا 

شوگر ملز ایسوسی ایشن  نے وفاقی وزیرِ خزانہ اور وفاقی وزیر برائے غذائی تحٖفظ کو خط لکھتے ہوئے  پنجاب اور سندھ کی شوگر ملوں میں نصب ایف بی آر  کے ایس ٹریک پورٹل بند ہونے کی شکایات   کردیں ۔

خط کے مندرجات کے مطابق پورٹل کے بند ہونے سے ملوں سے چینی کی لفٹنگ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔چینی کی  ترسیل پرپابندی سے مارکیٹ میں چینی کی قلت ہو گی، قیمتیں بڑھیں گی۔

پورٹل کی بندش سےزیادہ تر ملیں چینی کی ترسیل نہیں کر سکیں جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ،ملوں میں موجود ایف-بی-آر کے نمائندے ملز کے گیٹ پر لفٹنگ کو روک رہے ہیں۔

 ایف بی آر کے ایس-ٹریک پورٹل کو بار بار بند کرنا اب ایک معمول بن چکا ہے ۔جو ایف بی آر اہلکارپورٹل کو چلانے کے ذمہ دار ہیں ان میں سے اکثر  غائب ہو چکے ہیں ۔ کچھ جگہوں پر پورٹل کے پاس ورڈ زبھی تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

خط میں کہا گیا کہ پورٹلز کو بلاک کر کے 8 بلین روپے سبسڈی والی درآمدی چینی بیچنا مقصود ہے ۔یہ عمل بالکل غیر قانونی ہے جسکی ماضی میں کوئی مثال نہیں  ملتی۔

بلاضرورت 200 ملین ڈالرز کی درآمدکردہ سبسڈائزڈچینی کی فروخت میں سہولت کاری کی جا رہی ہے۔ایسی پالیسی سے مارکیٹ میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔چینی کی لفٹنگ پر پابندی سے مارکیٹ میں چینی ناپید ہو جائے گی، قیمتیں بڑھیں گی۔
 اس سب  کیلئے انڈسٹری کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا،حکومت سے درخواست ہے کہ ایف-بی-آر کو پورٹل بلاک کرنے سے روکا جائے۔