بیوروکریسی کا مقام عبرت

بیوروکریسی کا مقام عبرت
City42 - Qaiser Khokhar

(قیصر کھوکھر) نیب لاہور نے گزشتہ روز سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو آشیانہ سیکنڈل میں گرفتار کر لیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آشیانہ سکینڈل کی انکوائری کے دوران گرفتار افسران کے بیان پر شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حالانکہ شہباز شریف ان بیوروکریٹس کے غلط کاموں کی وجہ سے ہی پکڑے گئے ہیں۔ اگر ان بیوروکریٹس نے کل کلاں غلط کام نہ کئے ہوتے تو آج شہباز شریف کو گرفتار نہ کیا گیا ہوتا۔

 آج جو بیوروکریٹس نیب کے سامنے وعدہ معاف گواہ بن رہے ہیں یا یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے سارا کیا کرایا شہباز شریف کے کہنے پر کیا ہے۔ کیا یہ اتنے معصوم تھے کہ انہوں نے بغیر کچھ سنے اور کہے اور دیکھے اور چھان بین کئے فائلوں پر دستخط کر دیئے؟ کیا شہباز شریف نے ان کی ٹانگ سے بم باندھ رکھا تھا یا ان کا بچہ اغوا کیا ہوا تھا کہ یہ کام کرو ورنہ یہ ہوجائے گا؟ یہ افسران سرکار کے ملازم ہوتے ہیں۔ اگر وہ وزیر اعلیٰ کا حکم نہ مانتے تو زیادہ سے زیادہ انہیں او ایس ڈی بنوا دیتے۔ او ایس ڈی بننے پر انہیں تنخواہ اور دیگر مراعات تو ملتی رہتی ہیں۔ پھر کاہے کا ڈر اور غلط کام کیوں کئے؟

ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ نے اس حوالے سے بتایا کہ انہوں نے اجلاس کے دوران اس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو بتایا کہ یہ غلط کام ہے یہ نہیں ہو سکتا ہے، تو اس پر شہباز شریف نے اتفاق کیا اور اس غلط کام کی منظوری نہیں دی تھی۔ یہ بیورو کریسی ہی تھی، وہ سیاستدانوں کے ساتھ ہم نوالہ اور ہم پیالہ بن جاتی ہے اور سیاستدانوں کے ساتھ مل کر غلط کام کرتی ہے۔ اگر ان بیوروکریٹس نے کوئی غلط کام نہیں کیا تو ان کے غیر ممالک میں اتنے اثاثے کیسے بن گئے ہیں؟ ان کے بچے مہنگے ترین سکولوں میں کیسے پڑھتے ہیں؟ یہ عیش و عشرت کی زندگی کیسے گزارتے ہیں؟ بیوروکریسی آج معصوم بن رہی ہے اور وعدہ معاف گواہ بن رہی ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے انرجی کے کامیاب منصوبوں پر اپنے افسران کو 20لاکھ اور چالیس لاکھ تک نقد انعامات دیئے تو کیا یہ قواعد و ضوابط کے مطابق تھے۔؟ سول سروس اکیڈمی میں یہ رولز پڑھائے جاتے ہیں کہ ایک سول سرونٹ کی کیا کیا حد بندیاں ہیں ۔ اگر ان افسران فواد حسین فواد، وسیم اجمل چودھری اور احد خان چیمہ نے شہباز شریف کو اپنی ذاتی خواہش کی خاطر غلط مشورے نہ دیئے ہوتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔

غلطی شہباز شریف کی نہیں، ان افسران کی بھی زیادہ بنتی ہے۔ نیب کو کسی بھی صورت میں ان افسران کو وعدہ معاف گواہ نہیں بنانا چاہئے ۔ ان افسران کا بھی برابر کا ٹرائل ہونا چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ کیونکہ افسران نے بھی غیر ممالک میں جائیدادیں بنا ئی ہیں۔ افسران میں پلاٹ حاصل کرنے کی ہوس آج بھی موجود ہے۔ یہ نیب کے ہاتھوں گرفتار افسران کسی بھی صورت اپنا دامن نہیں چھڑا سکتے ہیں۔

 اگر شہباز شریف نے کوئی جرم کیا ہے تو یہ بیوروکریسی بھی برابر کی شریک ہے۔ سب گرفتار افسران کا برابر کا ٹرائل ہونا چاہئے، کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جانی چایئے۔ اس کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ سیاستدان افسران کو پالتے ہیں اور پھر انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ اس امرکے تدارک کیلئے ایسی قانون سازی کی جائے کہ ہر سرکاری کام میں محکمے کے ایک سیکرٹری کے ساتھ ساتھ اس محکمے کا وزیر بھی برابر کا ذمہ دار ہو تاکہ احتساب کا عمل بھی مکمل ہو سکے اور افسر شاہی کے اختیارات بھی کم ہو سکیں اور محکمے کا وزیر بھی محکمے کے روز مرہ کے معاملات میں شامل ہو سکے۔ حکمرانوں کے کہنے پر اندھا دھند کام کرنے والے افسران کے لئے یہ ایک پیغام بھی ہے کہ مشکل وقت آنے پر یہ سیاستدان ان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، جیسا کہ فواد حسن فواد اور احدخان چیمہ کے ایشو پر ہوا ہے، کہ مسلم لیگ ن کے قائدین نے یہ بیان دیا کہ ان تمام کاموں کی ذمہ دار بیوروکریسی ہے نہ کہ شہباز شریف۔ لہٰذا یہ بیوروکریسی کے لئے یہ ایک مقام عبرت ہے، وہ اگر میرٹ سے ہٹ کر کام کریں گے توپکڑے بھی جائیں گے اور گرفتار ہونے پر ان کا کوئی پرسان حال بھی نہیں ہوگا۔

دوسرا مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود احمد نے بیان دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شہباز شریف کے معاملات طے پا گئے ہیں تو یہ گرفتاری اس کا جواب دیا گیا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ۔ وہ افسران جو ناک کی سیدھ میں چلتے ہیں اور” بک بائی بک“ کام کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں اور جو حکمرانوں کے ساتھ زیادہ وفادار بن جاتے ہیں تو پھر انہیں فواد حسن فواد اور امین اللہ چودھری کی طرح وعدہ معاف گواہ بھی بننا پڑ جاتا ہے۔ اگر کوئی افسر حکمرانوں کا غلط کام نہیں کرتا تو زیادہ سے زیادہ او ایس ڈی بن جاتا ہے، وہ غلط کام کر کے جیل جانے سے تو بہتر ہوتا ہے کہ تنخواہ اور مراعات او ایس ڈی کی ملتی رہتی ہیں۔ یہ بیوروکریسی کے لئے ایک طرح سے مقام عبرت بھی ہے اور سبق بھی ۔ لیکن ساتھ ساتھ سروس رولز اور رولرز آف بزنس کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک افسر کو غلط کام نہ کرنے پر ملازمت کا تحفظ بھی حاصل ہو سکے اور تمام کنٹریکٹ اور ٹھیکے میرٹ پر دیئے جا سکیں۔

 نیب کو کسی بھی صورت میں فواد حسن فواد اور احد خان چیمہ کو وعدہ معاف گواہ نہیں بنانا چاہئے ،یہ افسر شہباز شریف کے جرم میں برابر کے شریک ہیں بلکہ ساتھ ساتھ ان کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کے ریفرنس دائر کئے جانے چاہئےں تاکہ ان کے احتساب کا عمل بھی تیز ہو سکے۔

قیصر کھوکھر

سینئر رپورٹر