ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

طاقتور طوفان ویتنام کے ساحلی علاقوں پر اثر انداز ہونا شروع, پروازیں معطل،سکول بند

طاقتور طوفان ویتنام کے ساحلی علاقوں پر اثر انداز ہونا شروع, پروازیں معطل،سکول بند
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: طاقتور سمندری طوفان ’کلمیگی‘ فلپائن میں تباہی پھیلانے کے بعد ویتنام کے ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا، جس کے باعث ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ طوفان کے اثرات کے پیشِ نظر سینکڑوں پروازیں منسوخ اور سکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کو بند رکھنے کے احکامات بھی  جاری کر دیے گئے ہیں۔

ویتنامی سرکاری میڈیا کے مطابق طوفان کے دوران ہواؤں کی رفتار 92 میل فی گھنٹہ (149 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک ریکارڈ کی گئی، جبکہ 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد فوجی اہلکار امدادی کارروائیوں کے لیے الرٹ کر دیے گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ملک کے چھ بڑے ہوائی اڈے بند کر دیے گئے ہیں اور سینکڑوں پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

ویتنام پہلے ہی ریکارڈ بارشوں اور سیلابوں سے متاثر ہے اور اب اسے ایشیا کے اس سال کے طاقتور ترین طوفانوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔ وزارتِ ماحولیات کے مطابق طوفان نے ڈاک لک اور جیا لائی صوبوں میں ٹکرانے کے بعد شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ قومی موسمیاتی محکمے نے خبردار کیا ہے کہ سات صوبوں اور شہروں میں آئندہ چھ گھنٹوں کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔

مختلف علاقوں سے مکانات کی چھتیں اڑنے، درختوں کے گرنے اور ہوٹلوں کی شیشے کی کھڑکیاں ٹوٹنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کوی نون کے علاقے میں مرکزی شاہراہوں پر درخت گر گئے جبکہ ڈاک لک صوبے کے دو قصبوں کے مکینوں نے اپنے گھروں کے منہدم یا زیرِ آب آنے کی اطلاعات دیتے ہوئے مدد کی اپیل کی ہے۔

ماہرین کے مطابق طوفان جنوبی بحیرہ چین میں 8 میٹر (26 فٹ) تک اونچی لہریں پیدا کر سکتا ہے، جس سے ساحلی علاقوں میں مزید تباہی کا اندیشہ ہے۔ ویتنامی حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور امدادی اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم کیا جا سکے۔

فلپائن میں بھی ہولناک سمندری طوفان کلمیگی نے وسطی علاقوں کو تباہ کر دیا، مختلف حادثات میں 200 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو گئے۔ شہر سیبو میں سیلاب نے مکانات، گاڑیاں اور کنٹینرز بہا دیے۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے سب کچھ تہس نہس کر دیا، جس کے بعد صدر مارکوس نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔