ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار

فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

امانت گشگوری: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سویلین افراد کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں سویلینز کے ٹرائل کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ نے یہ فیصلہ پانچ اور دو کی اکثریت سے سنایا۔ عدالت عظمیٰ نے شہداء فاؤنڈیشن کی انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے سویلین افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کو آئینی قرار دیا۔

فیصلے کے مطابق اب آئندہ سویلینز کے خلاف فوجی عدالتوں کے تحت مقدمات چلانا ممکن ہوگا اور خصوصی عدالتوں کا دائرہ اختیار برقرار رہے گا۔ عدالت نے آرمی ایکٹ کی شق 2(1)(ڈی)(I)، 2(1)(ڈی)(II)، اور 59(4) کو بھی بحال کر دیا، جن کا اطلاق سویلینز پر عدالتِ عسکریہ کے دائرہ اختیار کے تحت ہوتا ہے۔

فیصلہ سنانے والے بینچ میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس حسن رضوی شامل تھے جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس سید محمد نعیم اختر افغان نے اختلافی نوٹ لکھا۔

سپریم کورٹ نے ساتھ ہی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ 45 دن کے اندر سویلینز کو فوجی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینے کے لیے آرمی ایکٹ میں ضروری ترامیم کرے تاکہ ہائی کورٹ میں اپیل کی سہولت فراہم کی جا سکے۔