ویب ڈیسک:مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث متحدہ عرب امارات میں سونے کی تجارت بھی متاثر ہو گئی ہے اور اماراتی تاجر سونا رعایتی قیمتوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایک طرف کئی پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ دوسری جانب سپلائرز کے لیے سونے کو اہم تجارتی مراکز تک منتقل کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، جس سے مارکیٹ میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق غیر یقینی صورتحال کے باعث متعدد خریدار نئی خریداری سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ وہ بڑھتے ہوئے شپنگ اور انشورنس اخراجات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ فوری ترسیل کی بھی کوئی واضح ضمانت موجود نہیں ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں تاجروں کو اسٹوریج اور فنڈنگ کے مسلسل بڑھتے اخراجات سے بچنے کے لیے سونا عالمی معیار لندن ریٹ کے مقابلے میں فی اونس تقریباً 30 ڈالر تک کم قیمت پر فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات، خصوصاً دبئی، ایشیا میں سونے کی برآمدات کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے اور یہ سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور کئی افریقی ممالک سے آنے والے سونے کی ترسیل کے لیے بھی اہم گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔