ویب ڈیسک:پیٹرولیم قیمتیں بڑھتے ہی پبلک ٹرانسپورٹرز نے بھی کرایوں میں اضافہ کردیا۔
ٹرانسپورٹرز نے300 سو روپے سے 600 سو روپے تک کرایوں میں اضافہ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور سے فیصل آباد کے کرایہ میں 1200 سے 1350 تک کا اضافہ جبکہ لاہور سے کراچی کا کرایہ 8000 سے 8600 روپے کر دیا گیا۔
لاہور سے سرگودھا کا کرایہ 1300 سے بڑھا کر 1550 روپے، لاہور سے اسلام آباد کاکرایہ 2600 سے بڑھا کر 3000 روپے جبکہ لاہور سے پشاور کا کرایہ 2890 سے 3500 کر دیا گیا۔
لاہور سے حیدر آباد کا کرایہ 8650 سے 9200 روپے ، لاہور سے مری کا کرایہ 2790 روپے سے بڑھا کر 3300 روپے جبکہ لاہور سے رحیم یار خان کا کرایہ 4000 سے بڑھا کر 4250 روپے کر دیا گیا۔
اسی طرح شہر میں سفر کرنے کیلئے رکشوں ،ٹیکس سروسز کاکرایہ بھی بڑھ گیا۔
لاہور سے دیپالپور نان اے سی بس کا کرایہ 600 سے بڑھ کر 750 ہو گیا جبکہ لاہور سے قصورکا کرایہ 120 سے بڑھ کر 150 روپے ہو گیا۔
شہر میں رکشے کے کرائے بھی 30 فیصد تک بڑھ گئے جبکہ ٹیکسی سروسز کے کرائے بھی 25 سے 30 فیصد بڑھ گئے ہیں۔
لاری اڈے پر موجود مسافروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، کبھی کہیں خوشی غمی پر جانا بھی امتحان سے کم نہیں ہے ، غریب آدمی اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلائے یا سفر کرے۔
ٹرانسپورٹروں کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ سپئیر پارٹس بھی مہنگے ہوئے ہیں، اگر کرایوں میں اضافہ نہ کریں تو گاڑیاں بند کرنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پٹرول کی قیمت فوری کم کرے ورنہ مہنگائی کا سیلاب آ جائے گا۔