سٹی42: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے حماس کے ساتھ براہ راست إزاکرات کئے، اب ایران کے خامنہ ای کو نئے جوہری معاہدے پر بات چیت میں دلچسپی ظاہر کرنے کے لیے خط لکھ ڈالا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ انہوں نے کل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے معاہدے پر بات چیت کے لیے اپنی ترجیح کا اظہار کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار فاکس بزنس نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔
ٹرمپ نے پہلی مرتبہ یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ ایران کو ایٹم بم بنانے تک پہنچنے سے روکنے کے لئے دراصل کیا کرنے کے متعلق سوچ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، اگرچہ وہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے "بلکہ اس کے ساتھ معاہدے پر بات چیت کریں گے"، ٹرمپ کے بقول، "دوسرا متبادل یہ ہے کہ آپ کو کچھ کرنا پڑے گا، کیونکہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔"
ٹرمپ نے یہ اب بھی نہیں بتایا کہ وہ "کیا کریں گے" لیکن اب یہ واضح ہو گیا کہ وہ سرِ دست مذاکرات کریں گے، کیونکہ ایران پہلے ہی مذاکرات پر آمادہ ہے۔
"مذاکرات" کے ضمن میں ٹرمپ کی سٹریٹیجی کیا ہو گی، اس بارے مین سر دست کوئی کلیو دستیاب نہیں۔ ایران کے گزشتہ ایٹمی مذاکرات کے نتیجہ میں ایران کا ایتمی پروگرام کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھتا رہا۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو ایران کی تمام ایٹمی لیبارٹریز تک رسائی ہی حاصل نہیں اور وہ نظنز ایٹمی لیب کے بھی چند ہی حصوں تک جا کر معائنہ کر سکے ہیں۔ اور اس کے ساتھ امریکہ اور دیگر ممالک کی ایران کے حقیقی ایٹمی پروگرام کے معاملہ میں معلومات عملاً ناقص ہیں۔ بعض ذرائع بضد ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے درکار اعلیٰ درجہ کی انرچڈ یورینئیم پروسیسنگ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ تعین کرنا ممکن نہیں کہ وہ مطلوبہ گریڈ تک انریچڈ مواد کی کس قدر مقدار حاصل کر چکا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مرتبہ وائٹ ہاؤس آنے کے ساتھ ہی بڑے پیمانہ پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ ٹرمپ ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لئے ایران پر حملہ کرنے تک جا سکتے ہیں۔
قطر کے الجزیرہ نیوز نے اس خبر کو ایسے پبلش کیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کو ایک خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ (ایران) جوہری معاہدے پر مذاکرات پر رضامند ہو۔
الجزیرہ کے مطابق ایران نے پہلے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن جب تک ٹرمپ انتظامیہ اپنی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی کو معطل نہیں کرتی، ایران امریکہ کے ساتھ بات نہیں کرے گا۔