ملک اشرف : عدالت نے ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو رکشہ مینوفیکچررز کے حوالے سے بھی پالیسی بنانے کا حکم دے دیا ،عدالت کا سیوریج نالوں کو کوور یا انڈر گراؤنڈ کرنے کے حوالے سے کارکردگی رپورٹ ہر سماعت پر پیش کرنے کا حکم دے دیا .
جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کی، وکیل ایل ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ ٹولنٹن مارکیٹ کی ری ویمپنگ ایک ماہ میں مکمل کرلی جائے گی ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے ٹولنٹن مارکیٹ کو بہتر کرنا بہت ضروری ہے،ٹولنٹن مارکیٹ سے پورے شہر کو اچھا گوشت فراہم کیا جاتا ہے ،جسٹس شاہد کریم نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ سکولوں کی ٹریفک کے رش کو کنٹرول کرنے کے لئے صبح اور چھٹی ٹائم ایک مربوط ٹریفک پلان بنانا ضروری ہے ،بڑے سکولوں کے لئے پارکنگ ایریا لازم ہونا چائیے ، لوگوں کو حکومت کے ساتھ ملکر چلنا ہوگا ،انہیں گھر کے آگے صفائی اور خوبصورتی کا خود بھی خیال کرنا ہوگا ، ساری دنیا میں لوگ اپنے گھروں کے آگے سے برف کو ہٹنے سے صفائی تک کا خیال خود کرتے ہیں ، اداروں کو بھی لوگوں کو اپنی پالیسی میں شامل کرنا چائیے ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ گرین بلڈنگز جو انٹرنیشنل ماحولیاتی معیار کے مطابق بنائی جارہی ہیں ، ایل ڈی اے کو انہیں تعریفی سرٹیفکیٹ دینے چائیں ، ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز نے محمود بوٹی ڈمپنگ سائٹ کے حوالے سے رپورٹ پیش کی ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے محکمہ ماحولیات پہلی مرتبہ اچھا کام کررہا ہے، ان کی کارکردگی کو سراہنا چائیے ، آنے والے وقتوں میں سب سے زیادہ رول محکمہ ماحولیات کا ہے، محکمہ ٹرانسپورٹ کو رکشوں کے حوالے سے پالیسی بنانی چائیے ،رکشہ مینوفیکچررز کو ساتھ ملا کر ایک باقاعدہ پلان بنانا چائیے کہ اس کے دھواں کو کیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے ، ڈیزل بسوں کو الیکٹرک بسسز میں تبدیل کرنے کرنے کے لئے فیز آؤٹ پالیسی بنانی چائیے ،ایلکٹرک بسوں کی طرف جانا بہت ضروری ہے چائیے اس میں دو تین سال کا عرصہ لگ جائے ، جسٹس شاہد کریم نے محکمہ ماحولیات کی کارکردگی کی بھی تعریف کی ،جسٹس شاہد کریم نے مزید ریمارکس دئیے کہ رکشوں کو الیکٹرک رکشوں میں کنورٹ کیا جاسکتا ہے، بھارت سمیت دیگر ممالک میں کامیابی سے کیا جا چکا ہے،واسا وکیل نے سیوریج نالوں کو انڈر گراؤنڈ کرنے کے حوالے سے رپورٹ پیش کی ،،ممبران ماحولیاتی کمیشن ، وفاق، کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ ،،ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز ، ٹریفک ، ایل ڈی اے ،پی ایچ اے کے نمائندے پیش ہوئے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14 مارچ تک ملتوی کردی ۔