سٹی42: این ڈی ایم اے نے 10 جولائی تک ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کردیا جس کے مطابق پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔
شہر لاہور میں صبح سویرے آسمان پر بادل بھرے ہوئے تھے اور بریز چل رہی تھی۔ شہر میں کہیں کہیں بارش کی اکا دکا بوندیں بھی ٹپکیں لیکن صبح گیارہ بجے کے بعد موسم کا رنگ بدلنا شروع ہوا ، بادلوں کے پردے سے سورج باہر نکلا اور ماحول میں حدت بھر گئی۔
موسم گرم اور مرطوب ہو گیا جبکہ گزشتہ روز ہونے والی بارش کے باوجود حبس اور گھٹن کا راج ہو گیا۔ دوپہر سے سہ پہر تک سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی ہوتی رہی۔
صبح گیارہ بجے ٹمپریچر 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو دن کے دوران 31 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہا۔ ہیومڈٹی کے باعث یہ ٹمپریچر اصل سے قدرے زیادہ محسوس ہوتا رہا۔
ہوا میں نمی کا تناسب 85 فیصد جبکہ ہوا کی رفتار 8 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ، جس کی وجہ سے موسم میں غیر معمولی گھٹن محسوس کی جا تی رہی ۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 10 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے جس کے دوران بعض علاقوں میں تیز بارش اور بعض میں ہلکی بوندا باندی متوقع ہے۔
ملک میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر نشیبی علاقوں کے مکین قیمتی اشیاء اور مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا قبل از وقت بندوبست رکھیں، حساس علاقوں کے مکین ہنگامی صورتحال کے لیے 3 سے 5 دن کی خوراک، پانی اور ادویات پر مشتمل ایمرجنسی کٹ تیار رکھیں۔
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ بڑھ گیا، دریائے کابل، سندھ، چناب، سوات، چترال، ہنزہ اور دیگر ندی نالوں کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے، شمال مشرقی پنجاب، جنوبی بلوچستان اور آزاد کشمیر میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے بتایاکہ دریائے جہلم اور اس کے معاون نالوں میں اچانک طغیانی کا خطرہ ہے، گلگت بلتستان میں دریائے ہنزہ اور نالوں میں پانی کی سطح میں اچانک اضافہ ممکن ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آواران، خضدار، جھل مگسی، قلعہ سیف اللہ میں سیلابی صورتحال کا امکان ہے۔