ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت کو بنگلہ دیش کا ’’ڈھاڈا‘‘جواب ۔۔بھارتی پریزنٹر ردھیما پاٹھک فارغ 

بھارت کو بنگلہ دیش کا ’’ڈھاڈا‘‘جواب ۔۔بھارتی پریزنٹر ردھیما پاٹھک فارغ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(سلیم رضا)  بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے بھارتی پریزنٹر ردھیما پاٹھک کو  بنگلہ دیش میں جاری پریمیئر لیگ (بی پی ایل) سے ڈراپ کر دیا ہے۔ بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں بی پی ایل کے پریزنٹیشن پینل سے ڈراپ کرنے کا فیصلہ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان حالیہ سیاسی اور سفارتی تناؤ کے تناظر میں بدلی ہوئی صورتحال  کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بی سی بی نے اس سال کے بی پی ایل میں کمنٹری اور پریزنٹیشن میں بین الاقوامی تنوع لانے کے لیے پہل کی۔ بھارتی ریدھیما پاٹھک پاکستان کی مقبول ٹی وی شخصیت زینب عباس کے ساتھ پریزینٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں، اس کے ساتھ ہی پاکستان کے سابق کپتان اور پی سی بی کے سابق سربراہ رمیز راجہ اور انگلینڈ کے لیجنڈری کرکٹر ڈیرن گف کو کمنٹیٹر کے طور پر شامل کیا گیا۔ تاہم حالیہ صورتحال میں بی سی بی کو مجبوراً وہ پلان تبدیل کرنا پڑا۔
بنگلہ دیش بھارت تعلقات کی خرابی کا براہ راست اثر کھیلوں کے میدان پر پڑا ہے۔ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم کے اسٹار فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے حکم پر آئی پی ایل کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے ڈراپ کر دیا گیا۔ الزام لگایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ انتہا پسند ہندو گروپوں کی دھمکیوں کے پیش نظر کیا گیا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
اس واقعے کے فوراً بعد بی سی بی نے ایک ہنگامی میٹنگ بلائی اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو خط بھیجا جس میں سلامتی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کھیلنے سے معذوری ظاہر کی گئی۔ ساتھ ہی بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میچوں کا مقام بھارت سے دوسرے ملک منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ بنگلہ دیش کی حکومت کی جانب سے 5 جنوری کو کیبل ٹیلی ویژن آپریٹرز کے ذریعے آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ تجزیہ کار حکومت کے اس فیصلے کو جاری سفارتی تناؤ کی عکاسی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
مجموعی طور پر سیاسی تناؤ کے اثرات اب کرکٹ کے میدان میں واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔ بی پی ایل کے پریزنٹر پینل سے ایک بھارتی پریزنٹر کا اخراج اس حقیقت کی ایک اور مثال ہے، جو نہ صرف ایک ٹورنامنٹ بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں بھی نئے سوالات اٹھا رہا ہے۔