ویب ڈیسک : میک کمپیوٹر سے لے کر آئی فون تک، ایپل کے آنجہانی شریک بانی اسٹیو جابز جنہیں ٹیکنالوجی کی دنیا میں جنیئس تصور کیا جاتا ہے، نے روزمرہ کی زندگی میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے انقلاب برپا کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔
اب ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز نے ایسی انسانی صلاحیت کے بارے میں بتایا ہے جو ان کے مطابق زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے ۔
1982 میں ایک خطاب کے دوران اسٹیو جابز نے کہا کہ درحقیقت ذہانت موروثی نہیں ہوتی بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ انسان مختلف چیزوں کو ایسے زاویوں سے دیکھے جو عام افراد نہیں دیکھ پاتے ۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ صلاحیت کامیاب افراد کو زندگی میں پیچھے رہنے والے لوگوں سے ممتاز کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ذہانت کا ارتقا تجربے سے ہوتا ہے جس سے لوگ مسائل کو منفرد نظریے سے حل کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
اسٹیو جابز نے زور دیا کہ لوگوں کو تخلیق اور تنوع میں مہارت حاصل کرنی چاہیے جو زندگی کے متعدد تجربات سے حاصل ہوتی ہے، اس طرح وہ چیلنجز کا سامنا بہترین طریقے سے کر سکتے ہیں اور دیگر عام افراد سے الگ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کی زندگی کے تجربات دوسروں سے مختلف نہیں ہوتے مگر تخلیقی سوچ اور تنوع رکھنے والے زندگی میں کامیاب افراد اپنے معاملات کو دیگر سے بالکل الگ انداز سے نمٹاتے ہیں۔
