ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بانی کے بڑبولے وکیل فیصل چوہدری کی گرفتاری اور رہائی

Faisal Choudhry, Bani PTI, Adiala Jail, City42
کیپشن: فیصل چوہدری کو جمعرات کے روز اڈیالہ جیل مین بانی سے ملنے نہیں دیا گیا تو انہوں نے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کو گالیاں بکیں، آن انہیں عدالت کے حکم کے باوجود بانی سے ملنے بھی نہیں دیا گیا اور گرفتار کر کے پولیس چوکی میں بھی بٹھا دیا گیا، لیکن آج انہوں نے کسی کو گالیاں نہیں بکیں۔ فیصل چوہدری نے بعد مین بتایا کہ وہ آج ""ذہنی طور پر تیار ہو کر آئے تھے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر  عمران خان کے وکیل اور پی ٹی آئی حکومت کے سابق وزیر اطلاعات کے بھائی  فیصل چوہدری کو  دو گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا۔

 فیصل چوہدری نے رہا ہونے کے بعد بتایا  کہ وہ آج عدالت کے حکم پر بانی سے ملاقات کے لیے آئے تھے،وہ  4 وکلا تھے، عدالت کے حکم نامہ کے باوجود بانی سے  ملاقات نہیں کرائی گئی، واپس آ رہے تھے کہ اڈیالہ جیل کے دروازے پر پولیس اہلکاروں نے چوکی بلایا اور وہاں بٹھا لیا۔

 ایک روز پہلے جمعرات کو بھی فیصل چوہدری اڈيالہ جیل  بانی سے ملاقات کرنے کے لئے گئے تھے لیکن انتظامیہ نے انہیں جیل میں  جانے نہین دیا تھا۔ جیل میں داخلے سے روکنے پر فیصل چوہدری نے جیل اہلکار سے تلخ کلامی کی تھی اور انہیں گالیاں بھی دی تھیں۔
 آج وہ عدالت کا حکمنامہ لے کر آئے تو جیل کے باہر پولیس اہلکاروں نے انہیں حراست مین لے لیا اور چوکی میں لے گئے۔ پولیس  ذرائع نے بتایا تھا فیصل چوہدری کو گزشتہ روز جیل افسر عمران ریاض کو گالیاں بکنے پرگرفتار کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق فیصل چوہدری کو گرفتاری کے بعد اڈیالہ جیل چوکی منتقل کردیا گیا تھا، راولپنڈی پولیس کی اضافی نفری بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی تھی۔ لیکن فیصل چوہدری کے پیچھے کوئی کارکن نہیں آیا۔ 

دو گھنٹے تک فیصل چوہدری پولیس کی حراست مین رہے، اس کے بعد انہیں پولیس چوکی اڈیالہ سے چھوڑ دیا گیا۔

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق رہائی ملنے کے بعد بانی کے وکیل نے یہ بھی کہا، میں ذہنی طور پر تیار ہو کر آیا تھا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ مجھے حراست میں لیں گے یا میں معافی مانگوں گا، ڈر جاوں گا تو ایسا نہیں ہے ۔

جمعرات کے روز بظاہر پڑھے لکھے فیصل چوہدری کے  پولیس اہلکاروں کو نازیبا الفاظ کہنے کی ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں  وہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ گالم گلوچ کر رہے تھے۔ آج وہ جیل آئے تو انہیں آج بھی ملاقات کی اجازت نہیں ملی لیکن آج وہ اپنے بقول "ذہنی طور پر تیار ہو کر آئے تھے" اس لئے انہوں نے گالم گلوچ نہیں کی، خاموشی سے واپس چلے گئے، جب گرفتار کیا گیا تب بھی انہوں نے گالم گلوچ نہیں کی بلکہ پولیس چوکی جا کر کچھ اور ہی رویہ اختیار کیا جس کے نتیجہ مین انہیں دو گھنٹے بعد رہائی مل گئی۔ 

تاہم رہائی کے بعد میڈیا کیمروں کو دیکھ کر فیصل چوہدری ایک بار پھر چمکے اور کہا،  احتجاج پر مجھے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے کمرے میں 2 گھنٹے تک بٹھایا گیا اور حبس بیجا میں رکھا گیا، جیل عملہ میرے اور میرے ساتھ آئے ہوئے "سائلین" کو ہراساں کرتا رہا۔