ملک اشرف : لاہور ہائی کورٹ نے پانی کو ضائع کرنے والوں کو بھاری جرمانے کرنے کا حکم دے دیا ۔ عدالت نے گھروں میں گاڑیاں دھونے والوں کو 10 ہزار جبکہ ری سائیکلنگ کے بغیر چلنے والے پیٹرول پمپس کو پہلے مرحلے میں سیل دوبارہ خلاف ورزی پر ایک لاکھ جرمانہ کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو پانی کا ضیاع روکنے کے حوالے سے آگاہی مہم چلانے کا حکم دے دیا ، عدالت نے ٹریفک کی ناقص صورتحال پر چیف ٹریفک آفیسر کو دس فروری کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعلق کیس کی سماعت کی ،ممبر ماحولیاتی کمیشن نے چیف سیکرٹری کے ساتھ خشک سالی کے متعلق ہونے والی ملاقات بارے رپورٹ پیش کی ،جسٹس شاہد کریم نے
چیف سیکرٹری پنجاب کو پانی کا ضیاع روکنے کے حوالے سے آگاہی مہم چلانے کا حکم کا حکم دیا ، عدالت نے واٹر اتھارٹی کو فعال کرنے، لوکل گورنمنٹ کو صوبہ بھر میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے اور پانی کا ضیاع کرنے والوں پر بھاری جرمانے کرنے کا حکم دیا ,جسٹس شاہد کریم نے حکم دیا کہ پنجاب میں کوئی بھی پراجیکٹ محکمہ ماحولیات کی اجازت کے بغیر شروع نہ کیا جائے ،عدالت نے ٹریفک کی ابتر صورت حال پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے چیف ٹریفک آفیسر اظہر وحید کو 10 فروری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ محکمہ ماحولیات جاگ گیا ہے، پی ڈی ایم اے ابھی تک سویا ہوا ہے،اگر گھروں میں ہی گاڑیاں دھونے کا کام ختم کروادیں ، تو آدھے سے زیادہ پانی کے ضیاع کی بچت ہوسکتی ہے،پانی کی بچت کا آغاز جی او آر سے شروع کرنا چائیے ،عدالت نے واٹر اتھارٹی بنانے کی ہدایت کی تھی ، لیکن دوہزار انیس سے اس کا کمیشن کی نہیں بنا ، ایڈوکیٹ جنرل ، وزیر اعلی واٹر اتھارٹی کا جلد سے جلد نوٹفکیشن کروائیں ,,جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ لوکل گورنمنٹ کو پورے پنجاب میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے چائیں، مساجد میں بھی پانی کے ضیاع کو روکنا ہوگا ،اسٹنٹ ایڈوکیٹ پنجاب نے خشک سالی مینجمنٹ پلان جمع کروایا ، عدالت نے خشک سالی پلان پر عمل درآمد کروانے کی ہدایت کی ، ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز سمیت دیگر متعلقہ افسران پیش ہونے ، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 10 فروری تک ملتوی کردی ۔