سٹی42: اقوام متحدہ نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے مزید آپریشنز سے اسرائیل کے حماس کی قید میں موجود یرغمالیوں کو خطرے کا انتباہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے غزہ میں آنے والی تباہی کے بارے میں خبردار کیا ہے جو یرغمالیوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے پٹی پر مکمل زمینی قبضے کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کیا تو اس اقدام سے یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرہ ہو گا۔- غزہ کے تمام علاقوں میں اسرائیل کی فوج کے زمینی قبضہ کا یہ اقدام مبینہ طور پر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے زیر غور ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے حوالے سے تین دن پہلے بتایا گیا تھا کہ وہ اسرائیلی فوج کے قبضہ پر غزہ کے ان علاقوں تک پھیلانا چاہ رہے ہیں جہاں فوج اب تک موجود نہیں، ان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن کے متعلق قیاس ہے کہ وہاں حماس نے یرغمالیوں کو رکھا ہوا ہے۔ آج شام تک اطلاع یہ ہے کہ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کو ابھی اس منسوبہ کی منظوری دینا ہے تاہم غزہ میں اسرائیلی فوج کے آپریشنز میں وسعت کے آثار پہلے ہی واضح ہونے لگے ہیں۔
وسطی غزہ میں آئی ڈی ایف کے حملے
اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل میروسلاو جینکا نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اس طرح کا اضافہ "انتہائی تشویشناک" ہو گا اور اس سے فلسطینی شہریوں اور حماس کے یرغمال بنائے گئے دونوں کی زندگیوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لاکھوں فلسطینیوں کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے اور غزہ میں باقی یرغمالیوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اجینکا نے اقوام متحدہ کے جنگ بندی اور تمام مغویوں کی فوری، غیر مشروط رہائی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے غزہ کے حالات کو "خوفناک اور غیر انسانی" قرار دیا اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مناسب انسانی امداد کی غیر محدود ترسیل کی اجازت دے۔ انہوں نے کہا کہ "اسرائیل غزہ میں انسانی امداد کے داخلے پر سخت پابندیاں لگا رہا ہے، اور جو کچھ بھی داخل ہوتا ہے وہ انتہائی ناکافی ہے۔" انہوں نے خوراک کی تقسیم کے مقامات پر "جاری تشدد" کی بھی مذمت کی۔