علی رامے : پنجاب حکومت نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور پر خصوصی شفقت کرنی شروع کردی ، محمد فیصل کو جی او ار ون میں سرکاری گھر الاٹ کرنے کے لیے حکومت نے اپنی پالیسی ہی تبدیل کر دی۔ لاہور میں ایک کی بجائے دو گھر الاٹ کردیے
پنجاب حکومت نے ایک غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہورمحمد فیصل (PSP) کو لاہور کے پوش علاقے گارڈن آف ریذیڈنس یعنی جی او آر ون میں سرکاری گھر الاٹ کرنے کے لیے پنجاب ریزیڈنس الاٹمنٹ پالیسی 2024 میں نرمی کی خصوصی منظوری دے دی، سرکاری دستاویزات کے مطابق محمد فیصل بغیر کسی الاٹمنٹ کے GOR-I کے ہاؤس نمبر 9، گولف روڈ میں مقیم ہیں اور ان کی جانب سے مستقل الاٹمنٹ کے لیے پنجاب حکومت اور محکمہ سروسز اینڈ جنرل سے باقاعدہ درخواست دی گئی، جس پر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے واضح مؤقف اپنایا کہ محمد فیصل پالیسی کے تحت کی جی او آر ون میں سرکاری گھر لینے کے اہل ہی نہیں ہیں۔
دستاویزات کے مطابق محکمہ سروسز اینڈ جنرل نے یہ بھی کہا کہ پنجاب ریزیڈنس پالیسی 2024 کی شق 3.1(c) کے مطابق صرف وہ افسران گھر کے اہل ہوتے ہیں جو S&GAD کی کیڈر اسٹرینتھ پر ہوں۔ جبکہ محمد فیصل پولیس ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں، اور یوں نہ صرف وہ پالیسی کے تحت سرکاری گھر لینے کے لیے نااہل ہیں، بلکہ انہیں وزیر اعلی پنجاب کے 10 فیصد ہارڈشپ کوٹہ میں بھی شامل نہیں کیا جا سکتا لیکن انہی دستاویزات کے مطابق جب محکمہ سروسز اینڈ جنرل نے ڈی آئی جی آپریشن لاہور محمد فیصل کو گھر قانونی طور پر گھر الاٹ کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ پنجاب حکومت کی پالیسی کے برعکس ہے اور اس کے لیے حکومت کو پالیسی میں نرمی لانا ہوگی ۔
دستاویزات کے مطابق محکمہ سروسز اینڈ جنرل اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب احمد رضا سرور نے کہا کہ محمد فیصل حکومت کی پالیسی کے مطابق جی او آر میں گھر لینے کے لیے اہل نہیں ہیں ۔ لیکن پھر چیف سیکریٹری پنجاب زاہد زمان اسی دستاویزات میں لکھتے ہیں چونکہ محمد فیصل پالیسی کے مطابق گھر کے لیے اہل نہیں ہیں تو لہذا پنجاب کابینہ اس پالیسی میں نرمی کرنے کی منظوری دے تو محمد فیصل کو جی او آر ون میں سرکاری گھر الاٹ ہوسکتا ہے جس پر وزیر اعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری نے لکھا کہ ڈی آئی جی آپریشن لاہور محمد فیصل کو بارہ گالف لین کا سرکاری گھر الاٹ کردیا جائے جبکہ وہاں پہلے سے رہائش پذیر گریڈ 20 کے پاس کے آفیسر ظہیر حسین سے گھر خالی کرایا جائے اور انہیں وہاں الاٹمنٹ دی جائے جہاں ڈی آئی جی آپریشن لاہور محمد فیصل بغیر الاٹمنٹ کے رہائش پذیر ہیں۔
اس کے بعد محکمہ سروسز کو ہدایات دی گئیں کہ ڈی آئی جی آپریشن لاہور کے لیے گھر الاٹ ہونا ہے تولہذار دوبارہ سمری بنائی جائے جس پر ایڈیشنل سیکرٹری ویلفئیر کیپٹن ر سمیع اللہ فاروق لکھتے ہیں کہ ایوان وزیر اعلی پنجاب سے ٹیلی فون پر ملنے والی ہدایات کے مطابق ڈی آئی جی آپریشن لاہور کو گھر الاٹ کرنے کے سمری اب دوبارہ بھیجی جاتی ہے ۔
ڈی آئی جی آپریشن لاہور محمد فیصل کے لیے جی او آر ون میں اب ہاؤس نمبر 12، گولف لین مختص کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے ۔اس کے بعد ایک اور دلچسپ مرحلہ شروع ہوتا ہے کہ جو گھر محمد فیصل کو الاٹ کیا جاتا ہے وہ گھر اس وقت گریڈ بائیس کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو گروپ سے ظہیر حسن کو الاٹ ہے، مگر ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اس گھر کو خالی کردیں۔
اسی دستاویز میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ’ہاؤس نمبر 5، پٹیالا ہاؤس‘ کو باقاعدہ طور پر اب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی سرکاری رہائش قرار دیا جائے حالانکہ ڈی آئی جی آپریشن لاہور کے لیے منظور شدہ گھر ہاؤس نمبر فائیو ہے مگر وہاں سابق ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف رہائش پذیر ہیں۔