پاک بھارت تجارتی تعلقات ایک بار پھر منقطع

پاک بھارت تجارتی تعلقات ایک بار پھر منقطع

( شہزاد علی ) پاک بھارت تجارتی تعلقات ایک بار پھر منقطع کر دئیے گئے، پاکستان کی جانب سے بھارت سے تجارتی روابط منقطع کرنے کا نقصان بھارت کو زیادہ ہوگا۔       

پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی حجم 342 ارب سے زائد ہے جس میں سے پاکستان بھارت سے سالانہ 286 ارب روپے کی اشیا امپورٹ کرتا ہے جبکہ پاکستان 56 ارب روپے کی بھارت ایکسپورٹ کرتا ہے، تجارت بند ہونے سے پاکستان سے بھارت کی متعدد صنعتوں کے لئے برآمد ہونے والا خام مال بند ہوجائے گا جس میں بھارت کی سیمنٹ انڈسٹری کو بھاری خسارہ اٹھانا پڑے گا۔

پاکستان بھارت کو جپسم اور کِلنکر بھاری مقدار میں بھیجتا ہے جو کہ بھارتی سیمنٹ کی صنعت کی بنیادی ضرورت ہے۔ پاک بھارت تجارت بند ہونے سے پاکستانی نمک بھی بھارت ایکسپورٹ نہیں کیا جائے گا، نمک کی برآمد بند ہونے سے بھارت میں نمک کی قیمت بڑھ جائے گی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت سے کوئی قابلِ ذکر اشیاء نہیں خریدتا کیونکہ چند سال قبل بھارت سے ٹماٹر، پیاز سمیت دیگرسبزیا ں درآمد ہوتی تھیں، لیکن سابق حکومت نے ان کی درآمد بھی نہ ہونے کے برابرکردی تھی۔

 تاجروں اور صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کو صنعتی خام مال کی بندش سے پاکستان انڈسٹری کو معاشی فائدہ ہوگا اور بھارت پر پابندی کے بعد پاکستان کی سیمنٹ انڈسٹری کو اب مقامی سستا خام مال ملےگا۔