وسیم عظمت: حکومت نے پولٹری مافیا سے ہار مان لی، عوام کو من مانی قیمت پر چکن فروخت کرنے والے مافیا کے آگے ڈال کر حکومت خود پتلی گلی سے نکل گئی۔
میڈیا رپورٹس مین بتایا جا رہا ہے کہ لاہور کی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت نے مرغی کے گوشت کے ریٹ لسٹ سے زیادہ قیمت پر فروخت کے مسئلے کا عجیب و غریب حل یہ نکالا کہ چکن کو سرکاری ریٹ لسٹ سے ہی نکال دیا۔
سرکاری ریٹ لسٹ سے گوشت کی سرکاری قیمت ہی غائب کر دی گئی ہے۔ اب نہ سرکاری نرخ جاری ہو گا، نہ پبلک کو افسوس ہو گا کہ چکن سرکاری طور پر مقرر کی گئی قیمت سے زیادہ پر کیوں بیچا جا رہا ہے۔
لاہور میں مرغی کے گوشت کی قیمتوں کا مصنوعی ابھار عید گزرنے کے بعد بھی برقرارہے لیکن اب یہ ہو رہا ہے کہ حکومت چکن کی قیمت ہی مقرر نہیں کر رہی۔ پولٹی مافیا اپنی من مانی قیمت نکال رہا ہے اور مافیا سے کمیشن پر گوشت خرید کر گاہکوں کے گلے پر چھری پھیرنے والے "چکن سیل سنٹر" والے اس من مانے نرخ کی عوام سے وصولی یقینی بنا رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت نے سرکاری ریٹ لسٹ سے گوشت کے سرکاری نرخ کا خانہ ہی غائب کر دیا۔ شہریوں کا کہناہےکہ سرکاری ریٹ لسٹ کے ایک خانے میں پہلے مرغی کے گوشت کی قیمت مسلسل لکھی جا رہی تھی، یہ الگ بات ہے کہ مارکیٹ میں گوشت سرکاری ریٹ لسٹ سے 200 روپے سے 300 روپےفی کلو تک مہنگا ہی بیچا جا رہا تھا۔
جب رمضان کے آغاز سے پہلے وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پبلک کو سستی پروٹین فراہم کرنے کے لئے مرغی کے گوشت کی قیمت کنٹرول کرنے کی کوشش کی تو یہ کم تھی، ان کی کوشش کے جواب میں مافیا نے قیمت مزید بڑھوا دی اور چکن قابو سے باہر ہو کر فی کلو 880 روپے تک فروخت ہونے لگا۔ اب رمضان ختم ہو گیا، عید کے دن بھی گزر گئے لیکن مافیا چکن کی ڈیمانڈ گرنے کے بعد بھی اس کی قیمت کم نہیں کر رہا۔
گزشتہ روز لاہور ضلعی انتظامیہ کی سرکاری ریٹ لسٹ میں مرغی کےگوشت کی قیمت والےخانے میں گوشت کی پرچون قیمت 595 روپے فی کلو لکھی گئی تھی لیکن اب سرکاری ریٹ لسٹ سے سرے سے گوشت کی قیمت والا خانہ ہی غائب کر دیا گیا ہے۔
"چکن سیل سنٹر" پر مرغے اور گاہک دونوں کی ایک ہی چھری سے کھال نوچنے والے ریٹیلرز کا کہنا ہےکہ انہیں (مافیا کی طرف سے)پہلے 2 لسٹیں جاری کی جاتی تھیں، ایک لسٹ دکھاوے کیلئے اور دکان پر لٹکانے کیلئے ہوتی تھی جس پر گوشت کی قیمت کم درج کی جاتی تھی، دوسری لسٹ واٹس ایپ پر آتی تھی جس میں گوشت کی وہ قیمت ہوتی تھی جس پر انہوں نے گوشت بیچنا ہوتا تھا۔
عوام کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کو چکن کی قیمت کو ٹیسٹ کیس کی حیثیت سے لینا چاہئے، انہیں مافیا کے آگے ہتھیار ڈالنے والے سرکاری اہلکاروں سے بھی بازپرس کرنا چاہئے اور چکن کی اصل سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت میں ملوث مافیا کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔