سٹی42:ملتان، گڈو، سکھر، قبولہ شریف اور اوباڑو سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دریاؤں کی بپھری لہریں تباہی مچا رہی ہیں۔ دریائے چناب، سندھ اور ستلج میں پانی کی سطح میں کمی اور اضافے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔
ملتان میں دریائے چناب کا پانی گیج لیول 414 فٹ سے کم ہوکر 412.90 فٹ پر آ گیا ہے، لیکن خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ہیڈ تریموں سے ساڑھے تین لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا (352,529 کیوسک) ملتان کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے باعث دوبارہ تباہی کا خدشہ ہے۔انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں جبکہ گرے والا چوک تاحال ٹریفک کے لیے بند ہے۔ شہریوں کو احتیاط برتنے اور متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
گڈو بیراج: پانی کی سطح میں معمولی اضافہ، صورتحال نارمل
کشمور میں گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3,60,976 کیوسک اور اخراج 3,25,046 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں 1,406 کیوسک کا اضافہ ہوا۔ کنٹرول روم کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں مزید ریلا پہنچنے کا امکان ہے، تاہم صورتحال نارمل ہے۔
سکھر اور اوباڑو: دریا میں اضافہ، کچے کے علاقے زیرِ آب
سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3,31,155 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔ اوباڑو کے قریب دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کچے کے متعدد دیہات زیر آب آ چکے ہیں جبکہ گنے اور کپاس کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔
قبولہ شریف: دریائے ستلج کی بپھری لہریں، تباہی کا منظر
قبولہ شریف میں دریائے ستلج کی بے رحم موجوں نے درجنوں دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بستی سونے کا، کالیے شاہ، بستی حیدر سمیت کئی علاقے مکمل طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔ کچے مکانات زمین بوس ہو گئے اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔ فصلوں کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گھروں کو خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، مگر کئی خاندان اب بھی نقل مکانی سے انکاری ہیں۔ مقامی افراد نے امدادی کارروائیوں میں سستی کی شکایت کی ہے اور ریسکیو آپریشن میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔