ویب ڈیسک: فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) نے کریڈٹ کارڈ سے خریداری کرنے والے نان فائلرز کےخلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔
ٹیکس چوری اور پوشیدہ آمدن کا سراغ لگانے کے لئے ایف بی آر نے کمرشل بینکوں سے کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشنز کا ڈیٹا حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وہ افراد جو ماہانہ 2 لاکھ روپے سے زائد کی شاپنگ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کر رہے ہیں، اب ایف بی آر کے ریڈار پر آ گئے ہیں۔ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کیلئے اب یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گوشواروں میں کریڈٹ کارڈ سے کی جانے والی خریداری کی تفصیلات بھی شامل کریں۔
ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکوں نے ایف بی آر کے ساتھ صارفین کا ڈیٹا شیئر کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ نان فائلرز کی آمدن اور اخراجات میں فرق کو جانچا جا سکے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق کریڈٹ کارڈ کے اخراجات سے نان فائلرز کی حقیقی آمدن کا تعین کیا جائے گا، اور جو افراد بڑے پیمانے پر خریداری کر کے بھی ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے، ان کیخلاف نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔
ایف بی آر کی جانب سے واضح کیا گیا کہ ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر ہے، جس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ ادارے نے ٹیکس دہندگان کو ایس ایم ایس اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ وہ ایمانداری کے ساتھ اپنے گوشوارے جمع کرائیں، ورنہ ان کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔