ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں منشیات کے مقدمے کے ملزم کی درخواستِ ضمانت پر سماعت، آئی جی پولیس ڈاکٹر عثمان انور پیش ،عدالت نے پولیس کی ناقص تفتیش پر اظہارِ ناراضگی کرتے ہوئے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرلی ،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے تفتیشی خامیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "مزید تھانے بنانے سے بات نہیں بنے گی، پولیس کو خود ٹھیک ہونا پڑے گا۔ تفتیشی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔"
چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منشیات کے ملزم بھائی خان جھارا کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت کی، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، دیگر پولیس افسران اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل اخلاق سلہری عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا کبھی ایسا ہوا کہ استغاثہ جائے اور اس کا مقدمہ لینے سے انکار کر دیا جائے؟آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں پولیس کی تفتیش میں کئی خامیاں سامنے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ایک بندے پر پلانٹ کرکے منشیات ڈالی گئی، اسے اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں اس کی گاڑی میں منشیات رکھی گئی۔"آئی جی پنجاب نے مزید بتایا کہ یہ سب ایک اے ایس آئی کے ساتھ ملی بھگت سے کیا گیا، جس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ "اے ایس آئی یعقوب کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا اور مقدمے میں بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔"چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ "جس نے مقدمہ درج کیا، اسے ہی تفتیشی بنادیا گیا، حالانکہ تفتیشی افسر کو الگ ہونا چاہیے تھا۔ جس سے منشیات برآمد ہوئی، اسے مقدمہ میں ملوث کرتے اور پھر تفتیش آگے بڑھاتے۔"
چیف جسٹس نے مزید پوچھا کہ "جس پر تشدد ہوا، کیا اس کا میڈیکل کروایا گیا؟" جس پر آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ "میڈیکل کروایا گیا، لیکن اس کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔"آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی تفتیش اب تبدیل کردی گئی ہے اور ایس پی اس معاملے کی دوبارہ انکوائری کرے گا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ "کتنے کیسز میں آپ کو بلائیں کہ یہ نظام درست ہوسکے؟ پولیس کو اپنی اصلاح خود کرنی ہوگی۔"آئی جی پنجاب نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ پولیس میں کرپشن اور ناقص تفتیش کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ "آپ پولیس کے سربراہ ہیں، ان چیزوں پر آپ نے خود کنٹرول رکھنا ہے۔"سماعت کے اختتام پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ "اس کیس میں ملزم کی ضمانت منظور کی جا رہی ہے۔" عدالت نے منشیات کے مقدمے میں گرفتار ملزم بھائی خان جھارا کی بعد از گرفتاری درخواستِ ضمانت منظور کرلی۔
،،یہ مقدمہ تھانہ سرگودھا روڈ فیصل آباد میں درج کیا گیا تھا، جس میں چھ ملزمان نامزد تھے۔ پانچ ملزمان پہلے ہی ضمانت پر رہا ہوچکے تھے، جب کہ بھائی خان جھارا جیل میں بند تھا۔