ویب ڈیسک: بھارتی فلم انڈسٹری بالی ووڈ کے نامور میوزک ڈاریکٹرز اے آر رحمان، آر ڈی برمن، ایس ڈی برمن، شنکر جے کشن، اور ندیم شرون کو تو سبھی لوگ جانتے ہیں لیکن ان سے پہلے بھی غلام محمد ایک ایسے میوزک ڈائریکٹر تھے جنہوں نے ایسے گانے بنائے جو نسل در نسل گونجتے رہیں گے۔ تاہم، ان کی اپنی ذاتی زندگی مشکلات اور جدوجہد سے بھری ہوئی تھی۔ ان کی ایک فلم انکی موت کے 4سال بعد ریلیز ہوئی اور اس کے لیے انھوں نے 20 گانے ترتیب دیے تھے۔ تمام گانوں نے دھوم مچا دی۔ فلموں میں طبلہ بجانے والے کے طور پر اپنی پہلی نوکری حاصل کرنے میں انہیں8سال لگے۔
بھارت کی رپورٹ کے مطابق یادگار گانوں کی دل کے چھونے والی موسیقی ترتیب دینے والے مرحوم میوزک ڈائریکٹر کا نام غلام محمد ہے۔ کہ ان کی موسیقی کے امر ہو نے سے پہلے وہ لگ بھگ گمنامی میں جیتے تھے۔ ان کو کھانے کے لالے پڑے تھے۔ دوائیوں کے پیسے نہیں تھے۔ ۔ ان کے گانے آج بھی لوگوں کی فیورٹ پلے لسٹ میں شامل ہیں۔ لیکن وہ اپنی مقبولیت دیکھنے سے پہلے ہی انتقال کر گئے۔غلام محمد نے "پاکیزہ" اور "مرزا غالب" جیسی فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ وہ بھارت کے سب سے باصلاحیت لیکن کم سراہے گئے موسیقاروں میں سے ایک تھے۔ 1905 میں نال گاؤں، بیکانیر میں پیدا ہوئے، غلام کا خاندان موسیقی سے وابستہ تھا۔ ان کے والد، نبی بخش، ایک مشہور طبلہ ساز تھے جنہوں نے انہیں روایتی آلات بجانا سکھایا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عظیم میوزک ڈائریکٹر غلام محمد اکثر موسیقی بجاتے ہوئے سفر کیا کرتے تھے، اور ان کا ہنر ایسا تھا کہ ایک وزیر نے انہیں تعریف کے طور پر سنہری تلوار پیش کی۔ 1924 میں، خوابوں اور دھنوں سے متاثر ہوکر وہ بمبئی چلے گئے۔یہ آسان نہیں تھا، کیونکہ فلموں میں طبلہ بجانے والے کے طور پر اپنی پہلی نوکری حاصل کرنے میں انہیں8سال لگے، ماہانہ 100 روپے کماتے تھے۔غلام محمد کو پہلی کامیابی "راجہ بھرت ہری" (1932) کے ساتھ ملی اور انہوں نے 12 سال سے زیادہ عرصے تک معروف میوزک ڈائریکٹر نوشاد کی مدد کی۔ ایک آزاد میوزک کمپوزر کے طور پر ان کا آغاز 1947 میں "ٹائیگر کوئین" سے ہوا۔غلام محمد کی اس کے بعد "پردیس،" "عجیب لڑکی ،" "عنبر" اور "دل نادان" آئی ۔ اس کے بعد انہوں نے 1954 میں "مرزا غالب" سے مقبولیت حاصل کی۔اس فلم کے لیے انہیں بہترین میوزک ڈائریکٹر کا نیشنل ایوارڈ ملا۔ فلم کی نمائش راشٹرپتی بھون میں بھی کی گئی اور بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ان کی موسیقی کی تعریف کی تھی ۔
نیشنل ایوارڈ جیتنے کے بعد بھی غلام محمد کو کام ملنا بند ہوگیا اور وہ گمنامی میں چلے گئے ۔ برسوں بعد، فلم ساز کمال امروہی نے 1962 میں پاکیزہ کے لیے ان سے رابطہ کیا۔ غلام نے درجنوں گانے ترتیب دیے، لیکن ان میں سے تقریباً نصف کو فلم سے ہٹانا پڑا۔ پاکیزہ کے لیے انھوں نے جو 20 گانوں کی تشکیل کی، ان میں سے صرف 11 فلم میں لئے گئے ۔پاکیزہ فلم 1972 میں ریلیز ہوئی ۔ غلام محمد کا چار سال قبل یعنی 1968 میں انتقال ہو گیا تھا۔ اس دوران ان کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ ان کی موت کے بعد، ان کے سرپرست اور دوست نوشاد نے فلم کا بیک گراؤنڈ اسکور مکمل کیا۔ جب پاکیزہ ریلیز ہوئی تو یہ ایک میوزیکل فلم بن گئی جس میں "انہی لوگوں نے،" "چلتے چلتے"، "موسم ہے عاشقانہ" اور "تیر نظر" جیسے گانوں کے ساتھ ایک میوزکس فلم بنی ۔ فلم کے 9 گانوں کو بعد میں آڈیو البمز کے طور پر ریلیز کیا گیا۔