سٹی42: بھارت کی ریاست بہار میں آج ریاستی اسمبلی کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں 121 سیٹوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔
آج جمعرات 6 نومبر کو ہونے والی اس ووٹنگ کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹروں کی سہولیات کا خاص خیال رکھتے ہوئے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد نے آج الیکشن ہونے سے پہلے ہی الیکشن کمیشن کو بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیراعظم نریندر مودی کا چمچمہ بن کر دھاندلی میں نریندر مودی کی مدد کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کو ووٹرز لسٹوں میں بہت بڑی تعداد میں جعلی ووٹ شامل کر کے نریندر مودی کی پارٹی کو الیکشن چوری کرنے میں معاونت کرنے کی شکایت ہے۔
آج بہار کے الیکشن کو جنریشن زی سے منسوب شعور کا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ بہار کی پڑوسی ریاست نیپال مین اس جنریشن زی نے کچھ ہفتے پہلے حکومت کا تختہ الٹ ڈالا کیونکہ وہ ھکومت کو کرپٹ اور لاعلاج سمجھتے تھے، نیپال سے زیادہ برا حال بہار میں ہے اور یہاں نوجوانوں کی تعداد بھی نیپال میں سڑکوں پر قبضہ کر کے حکومت گرا دینے والے نوجوانوں کی کل تعداد سے بہت زیادہ ہے۔
انتخابی مہم کے چند ہفتوں کے دوران اور اس سے پہلے کے کچھ ہفتوں کے دوران نریندر مودی کی مرکزی حکومت اور بہار میں ان کے وزیراعلیٰ نتیش کمار (جنتا دل) نے عوام کے خاص خاص طبقوں کے لوگوں کو بہت بھاری رشوتیں دیں، عمومی ووٹروں کو خوش کرنے کے لئے جنرل سیلز ٹیکس کا نظام الٹ پلٹ کر کے بہت سے اشیائے صرف کی قیمتیں بھی کر کروا دیں لیکن ایک کام جو وہ نہیں کر سکے وہ نوجوانوں کی بے روزگاری کا خاتمہ ہے۔ نتیش حکومت اپنے دورانیہ میں بہار میں انڈسٹریلائزیشن نہیں کروا سکی اور نوجوانوں کو نوکری روزگار کے لئے بہار سے نکل کر ملک کے دوسرے حصوں میں دھکے کھانا پڑتے ہیں۔ دراصل یہ ہی بہار ریاستی اسمبلی الیکشن میں پبلک ڈسکورس کا مرکزی نکتہ ہے۔
پہلے مرحلہ میں بہار کے 18 اضلاع میں 121 اسمبلی سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے اور ووٹرس 1314 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ اس درمیان سبھی پارٹیوں کے سرکردہ لیڈروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس کےرکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی بہار کی عوام، خصوصاً نوجوان طبقہ سے ریاست کے روشن مستقبل کے لیے ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔