ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آج بہار ریاستی اسمبلی کا چناؤ ہے اور جین زی کے شعور کا امتحان!

Bihar Election, Rahul Gandhi, State Assembly election, First phase of state assembly election, BJP, Maha Gathbandhan, NDA, Congress
کیپشن: file photo ووٹر کے انگوٹھے پر نہ مٹنے والی سیاہی سے نشان لگا کر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ایک بار ووٹ ڈالنے والا ووٹر دوسری بار کسی پولنگ بوتھ میں جا کر ووٹ نہیں ڈال سکے گا لیکن بھارت کے الیکشن میں ایک ایک شخص کے بیس بیس جعلی ووٹ بننے اور کئی کئی جگہ جا کر ووٹ بھگتانے کی شکایات عام ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن پر  لوک سبھا کے انتخابات سے ہی یہ الزام لگ رہا ہے کہ انہوں نے لاکھوں افراد کے کئی کئی ریاستوں میں ووٹ بھگتانے کا  اور الیکٹرانِک ووٹنگ مشینوں سے ووٹ ڈالنے کے لئے نہ آنے والے ووٹرز کے بھی  جعلی ووٹ بھگتانے کا بہٹ بڑااور منظم گھوٹالہ ترتیب دیا ہوا ہے اور الیکشن کمیشن اس جعلسازی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا آلہ کار بنا ہے۔ آج بہار اسمبلیہ کے الیکشن میں کیا ہوتا ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا، گو کہ آج کی پولنگ کا نتیجہ 12 نومبر کی شب ہی سامنے آ پائے گا لیکن عوامی رجحان کا اندازہ آج شام تک ہی سوشل میڈیا  کے ٹریندز میں ہو جائے گا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  بھارت کی ریاست بہار میں آج ریاستی اسمبلی کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں 121 سیٹوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔

آج جمعرات 6 نومبر کو ہونے والی اس ووٹنگ کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹروں کی سہولیات کا خاص خیال رکھتے ہوئے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد نے آج الیکشن ہونے سے پہلے ہی الیکشن کمیشن کو بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیراعظم نریندر مودی کا چمچمہ بن کر دھاندلی میں نریندر مودی کی مدد کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔  اپوزیشن اتحاد کو ووٹرز لسٹوں میں بہت بڑی تعداد میں جعلی ووٹ  شامل کر کے نریندر مودی کی پارٹی کو الیکشن چوری کرنے میں معاونت کرنے کی شکایت ہے۔

آج بہار کے الیکشن کو جنریشن زی سے منسوب شعور کا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ بہار کی پڑوسی ریاست نیپال مین اس جنریشن زی نے کچھ ہفتے پہلے حکومت کا تختہ الٹ ڈالا کیونکہ وہ ھکومت کو کرپٹ اور لاعلاج سمجھتے تھے، نیپال سے زیادہ برا حال بہار میں ہے اور یہاں نوجوانوں کی تعداد بھی نیپال میں سڑکوں پر قبضہ کر کے حکومت گرا دینے والے نوجوانوں کی کل تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ 

انتخابی مہم کے چند ہفتوں کے دوران اور اس سے پہلے کے کچھ ہفتوں کے دوران نریندر مودی کی مرکزی حکومت اور بہار میں ان کے وزیراعلیٰ  نتیش کمار (جنتا دل) نے عوام کے خاص خاص طبقوں کے لوگوں کو بہت بھاری رشوتیں دیں، عمومی ووٹروں کو خوش کرنے کے لئے جنرل سیلز ٹیکس کا نظام الٹ پلٹ کر کے بہت سے اشیائے صرف کی قیمتیں بھی کر کروا دیں لیکن ایک کام جو وہ نہیں کر سکے وہ نوجوانوں کی بے روزگاری کا خاتمہ ہے۔ نتیش حکومت اپنے دورانیہ میں بہار میں انڈسٹریلائزیشن نہیں کروا سکی اور نوجوانوں کو نوکری روزگار کے لئے بہار سے نکل کر ملک کے دوسرے حصوں میں دھکے کھانا پڑتے ہیں۔ دراصل یہ ہی بہار ریاستی اسمبلی الیکشن میں پبلک ڈسکورس کا مرکزی نکتہ ہے۔

Caption عورتوں کو الیکشن کیمپین کے دوران نریندری مودی کے مقامی اتحادیوں نے بڑے لالچ دیئے ہیں، اور عورتیں خصوصا نوجوان لڑکیاں ہی اپوزیشن اتحاد کی کیمپین کا اہم مرکز رہی ہیں۔  آج کے ریاستی الیکشن میں عورتوں کا ٹرن آؤٹ نتائج کا رخ موڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے؛ کون کدھر جائے گی، کچھ گھنٹوں میں سامنے آ جائےگا۔

 پہلے مرحلہ میں بہار کے 18 اضلاع میں 121 اسمبلی سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے اور ووٹرس 1314 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ اس درمیان سبھی پارٹیوں کے سرکردہ لیڈروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس  کےرکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی بہار کی عوام، خصوصاً نوجوان طبقہ سے ریاست کے روشن مستقبل کے لیے ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔