ویب ڈیسک: بھارتی فوج میں خواتین افسران کو جنسی ہراسانی اور نامناسب رویوں کا سامنا ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ادارہ جاتی نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2025 میں پٹیالہ میں تعینات ایک آرمڈ ڈویژن میں ایک خاتون میجر نے حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل پر ہراسانی کا الزام عائد کیا۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس معاملے میں قانونی طریقہ کار کے بجائے اندرونی انکوائری کو ترجیح دی گئی۔
اسی طرح ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں خواتین افسران کی جانب سے ہراسانی کی شکایات سامنے آئیں۔ 2015 میں ایک کیس میں ایک خاتون افسر نے اپنے سینئر پر الزامات عائد کیے تھے، جبکہ 2024 میں بھی ایک خاتون افسر نے طویل عرصے تک ہراسانی اور ذہنی دباؤ کی شکایت کی۔
رپورٹس کے مطابق بعض کیسز میں متاثرہ افراد کو شکایات واپس لینے کیلئے دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہراسانی کے خلاف قوانین، جیسے POSH Act 2013، پر مؤثر عملدرآمد اور شفاف نظام کی ضرورت ہے تاکہ شکایات کا بروقت ازالہ ممکن ہو سکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس طرح کے معاملات میں شفاف تحقیقات اور احتساب کا نظام مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ اداروں پر اعتماد بحال رکھا جا سکے۔