ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انگلینڈ میں پاکستانیوں کے لئے ویزا محدود کرنے پر غور

 انگلینڈ میں پاکستانیوں کے لئے ویزا محدود کرنے پر غور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  انگلینڈ جا کر وہاں سیاسی پناہ لینے کی کوشش کرنےوالوں کا راستہ روکنے کے لئے انگلینڈ نے اپنی امیگریشن پالیسی مین سخت تبدیلیاں کرتے ہوئے بعض ملکوں کے شہریوں کے لئے انگلینڈ کے ویزا کی سہولت کو محدود کرنےکا فیصلہ کر لیا۔ اس فیسلے سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے لوگ بھی متاثر ہوں گے۔

 برٹش صحافتی ذرائع کے مطابق  برطانوی حکومت کی جانب سے بعض ممالک کے شہریوں کے ویزے محدود کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

انگلینڈ کے بعض  وزرا کو شکایت ہے کہ بعض ملکوں کے تعلیمی ویزے، سیاحت کے ویزے اور کام کے ویزے پر انگلینڈ  آنے والے  لوگوں مین سے بہت سے "سیاسی پناہ " طلب کرلیتے ہیں جب کہ وہ سیاسی پناہ کے حق دار بھی نہیں ہوتے اس کے باوجود   ان کے کیس متعلقہ اداروں مین طوی لعرصہ کے لئے زیر التوا ہ رہتے ہیں۔

برطانوی ہوم آفس نے تصدیق کی ہے کہ  گزشتہ برس ایک لاکھ 8 ہزار افراد نے انگلینْڈ میں سیاسی پناہ طلب کی۔

سیاسی پناہ طلب کرنے والوں میں پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ  تھی۔ پاکستان سے کسی نہ کسی طرح انگلینڈ پہنچ جانے والوں میں سے 10 ہزار  542 نے وہاں سیاسی پناہ مانگ لی۔  انگلینڈ جا کر سیاسی پناہ کے لئے اپلائی کر دینے والوں میں دوسرے نمبر پر 2 ہزار 862 سری لنکن اور تیسرے پر  2 ہزار 841 نائجیرین تھے۔

 گزشتہ برس برطانیہ میں ایک لاکھ 7 ہزار 480 بھارتی اور 98 ہزار 400  چینی طلبہ بھی موجود  تھ لیکن سیاسی پناہ  مانگنے مین پاکستانی، سری لنکن اور نائیجیرین سب سے آگے تھے۔ 

اگر انگلینڈ کی حکومت نے اپنی ویزا پالیسی مین تبدیلی کی تو  سیاسی پناہ کے طلبگاروں کا بوجھ کم کرنے کے اس مجوزہ منصوبے سے پاکستان، نائجیریا اور سری لنکا سے سٹوڈنٹس، کاروباری اور ورکنگ کلاس کے  تمام لوگوں کا برطانیہ آنا مشکل ہوسکتا ہے۔

یہ بات قابلَ ذکر ہے کہ انگلینڈ کے ہوم آفس نے 2020 کے بعد ایگزٹ چیک کے اعداد و شمار شائع نہیں کیے ہیں۔ 

ایک تھنک ٹینک یوکے ان چینجنگ یورپ کے فیلو پروفیسر جوناتھن پورٹس کا کہنا ہے کہ ویزوں پر پابندی سے سیاسی پناہ کی درخواستوں پر کم اثر پڑے گا اور سیاسی پناہ مین دلچسپی نہ رکھنے والے عام لوگ زیادہ متاثر ہوں گے۔