سٹی42:میکسیکو کی خاتون صدر نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نامناسب تجویز کو شائستگی کے ساتھ مسترد کر دیا۔
میکسیو کی صدرکلاڈیا شین بام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے صدر نے ان سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ میکسیکو میں امریکہ کی فوج بھیجنا چاہتے ہیں، خاتون صدر نے بتایا کہ وہ اپنی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی گفتگو پر بیان بازی کا سلسلہ شروع نہیں کرنا چاہتیں۔ تاہم انہوں نے پیر کے روز یہ بتا دیا کہ انہوں نے میکسیکو میں امریکی فوج بھیجنے کی ٹرمپ کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے پیر کو کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی بات چیت پریس میں بیانات کے تبادلہ کا سبب بن جائے، ٹرمپ کی جانب سے کارٹیلز سے لڑنے کے لیے میکسیکو میں امریکی فوجی بھیجنے کی پیشکش پر سوالات کے جواب میں کلاڈیا شین بام نے اپنی ٹرمپ کے ساتھ گفتگو کے متعلقہ حصہ کی تفصیل بتا دی۔
انہوں نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں کہا تھا کہ ہم میکسیکو کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور مد کرنے کے لے دوسری چیزوں کے ساتھ فوج بھی بھیجنا چاہتے ہیں، اگر وہ(صدر کلاڈیا) چاہیں تو۔ خاتون صدر نے طاقتور پڑوسی ملک کے صدر کی اس فرمائش کو نرمی سے مسترد کر دیا اور کہا، نہیں صدر ٹرمپ نہیں، ہم دوسرے معاملات میں تعاون کر سکتے ہیں لیکن اپنی ساورینیٹی اور ٹیریتوریلیٹی کے فریم ورک میں رہتے ہوئے جو کہ ہم دونوں (ریاستوں) سے متعلق ہے۔
اس جواب کے بعد خاتون صدر نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ان سے کہا کہ ہم امریکہ سے میکسیکو میں اسلحہ کی ٹریفیکنگ کے متعلق سخت رویہ اپنائیں گے۔

صدر کلاڈیا نے کہا، یہ بات ہم نے امریکہ کے کسی صدر کی زبان سے نہین سنی تھی، یہ میکسیکو کے لئے اہم ہے کہ امریکہ سے اسلحہ کی میکسیکو میں ترسیل (سمگلنگ) رکے۔ یہ بات بالکل اسی طرح اہم ہے جیسے ہم میکسیکو سے فینٹینائل کی امریکہ میں سمگلنگ روکنا چاہ رہے ہیں اور دوسری ڈرگز کی امریکہ میں سملگلنگ روکنا چاہ رہے ہیں۔۔