ویب ڈیسک:دنیا بھر میں خام تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے ہیں، جس کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی سپلائی میں موجود رکاوٹیں برقرار رہیں تو آنے والے ہفتوں میں خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطحوں کو چھو سکتی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور صنعت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ عالمی ذخائر میں مسلسل کمی مستقبل قریب میں تیل کی قیمتوں پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ ان کے مطابق سپلائی اور طلب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
امریکی آئل کمپنی ایکسن موبل کے سینئر نائب صدر نیل چیپ مین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ذخائر میں کمی کا رجحان جاری رہا تو برینٹ خام تیل کی قیمت 150 سے 160 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے مسائل اور ایران سے متعلق جاری کشیدگی عالمی تیل سپلائی کو متاثر کر رہی ہے۔ متعدد ممالک نے وقتی طور پر اپنے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کیے ہیں، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ حل طویل مدت تک مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے بھی خبردار کیا ہے کہ موسم گرما میں ایندھن کی طلب بڑھنے سے ذخائر پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان مزید بڑھ جائے گا۔
سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو اس کے اثرات عالمی مہنگائی، شرح سود اور اقتصادی ترقی پر مرتب ہوں گے۔ بلند توانائی لاگت صارفین کے اخراجات اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی توانائی منڈی اس وقت بڑی حد تک آبنائے ہرمز کی صورتحال سے جڑی ہوئی ہے اور جب تک تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر نہیں آتی، مارکیٹ میں بے یقینی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
پاکستان کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے تو مقامی سطح پر بھی پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں۔ تاہم یہ کہنا کہ پٹرول کی قیمت لازمی طور پر 450 سے 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ جائے گی، فی الحال ایک امکان یا اندازہ ہے، اس کی حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی کیونکہ قیمتوں کا انحصار عالمی نرخوں، حکومتی پالیسیوں، ٹیکسوں اور شرح مبادلہ سمیت متعدد عوامل پر ہوتا ہے۔