ملک اشرف:لاہور ہائی کورٹ نے بدفعلی کے ایک سنگین مقدمے میں مجرم کی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
عدالت عالیہ نے مجرم امتیاز حسین عرف منشی کی جانب سے دائر اپیل کو خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید اور جرمانے کی سزا قانون کے مطابق اور درست ہے۔
یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس محمد امجد رفیق نے جاری کیا۔ 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے کو آئندہ عدالتی نظیر کے طور پر بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف ظاہری چوٹوں یا زخموں کی عدم موجودگی سے بدفعلی کے جرم کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق بچوں کے جنسی تشدد کے زیادہ تر کیسز میں بیرونی نشانات واضح نہیں ہوتے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ بچوں کے نازک اعضا میں لگنے والے زخم اکثر جلد ٹھیک ہو جاتے ہیں، لہٰذا ظاہری نشانات نہ ہونا جرم کے انکار کے لیے کافی نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ میں ڈی این اے شواہد کے ذریعے جرم ثابت ہوا، اور متاثرہ بچے کے اندرونی نمونوں سے حاصل ڈی این اے مجرم سے میچ کر گیا۔
مزید کہا گیا کہ متاثرہ بچے کا اپنے بیان پر قائم رہنا ایک مضبوط اور قابل اعتماد ثبوت ہے، جبکہ ملزم کا دفاعی مؤقف تفتیش اور ٹرائل کے دوران ثابت نہیں ہو سکا۔